August 18, 2014

مصر اور ہم

Misar aur hum


 اصل میں بات کیا ہے کہ ایک تو ہمیں عربی خواتین کی جسامت سے ڈر لگتا ہے دوسرا عربوں کی پولیس کے ڈنڈے سے ڈر لگتا ہے لہذا ہم نے عربی خواتین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔چاہے ممیاں ہوں یا بیٹیاں ہمیں دونوں سے ہی ڈر لگتا ہےاوپر سے ہم بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں کہ ایک دیہاتی اپنے گاؤں کسی عرب ملک سے ہوکر آیا تو کہنے لگا کہ بڑے نیک ہوتے ہیں عربی۔ میری ایک عربی سے لڑائی ہوگئی تو میں اس کو گالیاں نکالوں وہ مجھے قران مجید سنائے۔ اور اگر عرب ممالک میں جا کر اگر یہ بات دماغ سے نکل بھی گئی تو ہمیشہ اپنی نام نہاد عزت کا اتنا خیال رہا کہ کبھی کسی سے اپنی محبت کا اظہار اس ڈر سے نہ کر سکے کہ عورت ذات کے پیٹ میں کبھی کچھ ٹکا ہے ۔ بات پورے شہر میں پھیل جائے گی اور اپنی بے عزتی ہوجائے گی۔

August 11, 2014

سارے (گا)ما

saare (ga) ma


ایسٹونیا میں جس سے ملیں اس کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر آپ ایسٹونیا کیسے آئے؟ اب بندہ تقدیر کے لکھے دھکے اور ماتھے پر لکھے الفاظ نہ پڑھنے والوں کو کیسے پڑھائے تو ایسوں کو کوئی تسلی بخش جواب دینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اگلا سوال ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی ساریما Saaremaa گئے ہیں؟ ساریما ایسٹونیا Estonia کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو ایسٹونیا کے مغرب میں واقع ہے۔ یوں تو ایسٹونیا میں کئی چھوٹے بڑے جزائر ہیں لیکن ساریما کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ایسٹونین لوگ اس جزیرے کی خوبصورتی کے خاصے متعرف ہیں۔ اب اللہ میاں نے ایسی طبعیت عطا کی ہے بس چلے تو گھر بار تیاگ کر تمام عمرنئی جگہیں دیکھنے میں گزار دیں اور پھر ایسٹونیا میں ویسے بھی نہ کوئی پُوچھ نا پاچھ ، نہ ذمہ داری نہ فرض، بس پینٹ شرٹ پہنی گلے میں کیمرہ لٹکایا اور سفر کو تیار۔

August 4, 2014

ایک جہاز جو اڑنے میں تاخیر کا شکار ہو گیا۔

Aik jahaz jo urny main takheer ka shikar ho gia


میں تالن Tallinn سےخوشی خوشی گھر واپسی کے لیے جہاز میں بیٹھا اور پہلی منزل فرینکفرٹ ٖFrankfurt ہوائی اڈا جو کہ میرے ناپسندیدہ ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جانے کی تیاری کرنے لگا لیکن خوشی یہ تھی کہ وہاں سات گھنٹے سے زیادہ رکنا تھا اور میں کافی دنوں سے فریکنفرٹ کے چڑیا گھر جانے کی کوشش میں تھا کہ سنا تھا وہ تمام یورپ میں واحد چڑیا گھر ہے جہاں نیوزی لینڈ New Zealand کا قومی پرندہ کیوی Kiwi پایا جاتا ہے۔

July 25, 2014

اگلی منزل لزبن

Agli manzil Lisbon


میری پروفیسر کا حکم ہوا کہ ایسا کرو کہ دوسرا سپر وائزر Supervisor ڈھونڈو جو کہ آپ کے ہی شعبےکا ہو تاکہ آپ کو پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے آسانی ہو۔ میں نے پروفیسر ڈھونڈنا شروع کیے اور ان کی تلاش میں دو چیزیں مد نظر رکھیں کہ ایک تو وہ برطانیہ England یا امریکہ America کے نہ ہوں دوسرا ایسٹونیا Estonia کے اور ایسٹونیا کے قریبی ممالک کے ساتھ کے نہ ہوں اور آخر میں نے ایک فہرست جس میں آسٹریلیا Australia، پرتگالPortugal، ترکی Turkey اور فرانس France کے پروفیسر شامل تھے اپنی سپر وائزر کو تھما دی۔ اس نے کانٹ چھانٹ کر ایک پرتگالی پروفیسر کو چنا اور میں نے دل میں سوچا پی ایچ ڈی اپنی جگہ پرتگال کا چکر پکا ہو گیا۔


July 7, 2014

نیا قانون

Niya Qanon


خبر:پاکستان کی قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے نئے قانون ’پروٹیکشن آف پاکستان بل 2014 ‘ کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بل دو سال کے لیے نافذ العمل ہو گا
مطابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل کے تحت گریڈ 15 سے کم کے افسر کو جدولی جرائم میں ملوث کسی مشکوک شخص پرگولی چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا اور کسی کی موت واقع ہونے کی صورت میں اس کی عدالتی تحقیقات لازمی قرار دی گئی ہیں۔
جدولی جرائم
خود کش حملے اور آتش زنی
جوہری تنصیبات، فوجی چوکیوں، اور دفاعی تنصیبات پر حملے
محکمۂ صحت کے ارکان پر حملے
ڈیموں اور بجلی کے نظام اور مواصلاتی نظام پر حملے
یرغمال بنانے یا یرغمال کرنے کی کوشش
سائبر کرائم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق

June 29, 2014

واسا اور آسا پاسا

Vaasa aur aasa paasa


ایسٹونیاEstonia میں جس پاکستانی سے ملیں اس نے ہر تیسرے جملے کے بعد گھوما پھرا کہ یہ ضرور پوچھ لینا ہے کہ کبھی ہیلسنکی Helsinki گئے ہو؟ اب اللہ جانے پاکستانیوں کو فن لینڈ Finland کے دارالحکومت ہیلسنکی سے اتنا پیار کیوں ہے کہ ہر آئے گئے کو ہیلسنکی کی تاکید کرتے ہیں اور مجھے سے بھی جب چارپانچ لوگوں نے پوچھ لیا تو میں بھی غصہ کھا کر ہیلسنکی کی بحری جہاز کے ذریعے ٹکٹ بک کرا بیٹھا۔ لیکن ان دنوں میں اٹلی Italy تھا اور وہیں پر ہی ای میل کے ذریعے بحری جہاز کی کمپنی لنڈالائن Linda Line نے پیغام بھیج دیا تکلف نہ کریں آنے کا ہم نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلسنکی- تالن بحری لائن بند کر دی ہے۔ جان چھوٹی ہم نے اڑتیس یورو واپس وصول کیے اور ڈبل روٹی ہمراہ دودھ کے اڑا کر عیاشی کر لی۔ اور ساتھ ہی دل کو تسلی دی کہ ویسے ہی دن چھوٹے ہیں اصل مزہ تو گرمیوں میں جانے میں ہے جب رات ہی نہیں ہوتی اور بندہ سارا دن خواری کے بعد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سارا دن خوار ہوئے ہیں کہ دن ہی اتنا بڑا ہے۔

June 16, 2014

جاپان اور جاپانی

Japan aur Japani


پتہ نہیں یہ الٹے پلٹے خیالات میرے ذہن میں کون ڈالتا ہے کہ میں نے ایک ویب سائیٹ پر دنیا بھر میں ہونی والی کانفرنسوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ اور میری نظر انتخاب جاپان پر جا ٹھہری۔ میں نے سوچا اگر ادھر مقالہ قبول ہو جائے تو آگے میزبان بھی مل جائے گا اور جاپان کی سیر بھی ہوجائے گی۔ اگلے بھی شاید میری ہی انتظار بیٹھے تھے کہ انہوں نے مقالہ قبول کر کے اس کو پڑھنے کی دعوت دے ڈالی۔

June 9, 2014

گریس اور گریک کے بیچ

Greece aur Greek ke beech


آپ کا ٹوئیٹر Twitter کے بارے کیا خیال ہے؟
بڑا نیک خیال ہے۔
کیا خیال ہے یہ ٹیکنالوجی کی بھرمار میں چل پائے گا؟
کیوں نہیں ابھی سوشل میڈیا Social Media کا متبادل کوئی نہیں آیا تو ابھی تو اس نے چلنا ہے۔
 تو میں اس کے شئیر Share اپنے پاس رکھوں؟
ضرور ضرور یہ گرا بھی عارضی ہوگا۔
چائینا موبائل China Mobile بارے کیا خیال ہے؟
بہترین ہے۔ اور اس نے کہیں نہیں جانا۔
اچھا آپ کا بہت شکریہ ۔ آپ نے میری مشکل حل کر دی۔


June 2, 2014

لیتھوانیا جانا

Lithuania jana


ڈاکٹر صاحب جو نام کے اور کام کے ڈاکٹر نہیں بلکہ سند یافتہ استادی والے ڈاکٹر ہیں نے فرمایا ولنیوس Vilnius چلنا ہے؟
کون کون جا رہا ہے؟
دو جرمن لڑکیاں ہوں گی ایک آپ اور ایک میں۔
میں فوراً سے پیشتر راضی ہو گیا۔
دو روز بعد فون پر اطلاع ملی لڑکیاں نہیں جا رہی بس آپ اور میں ہی ہوں گے تو کیا ہوٹل اور بس کی ٹکٹ لے لوں۔ مروت بڑی واہیات شے ہے اور میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر دی اور ہم نو گھنٹے کے سفر پر لیتھوانیا Lithuania کے دارالحکومت ولنیوس کے لیے روانہ ہو گئے۔

May 26, 2014

آغاز سفر

Aaghaz e safar

سفر وسیلہ ظفر ہے ۔ بہت عرصہ پہلے یہ بات سنی تھی لیکن سمجھ تب آئی جب ایسوں کو دیکھا جن کو یہاں کھانے کو مشکل سے میسر تھا اور باہر جا کر ان کے دن پھر گئے۔ 

لیکن ہماری قوم میں ایک اور عجیب چیز ہے۔ ہم ابھی شادی نہیں کرتے اور بچوں کے مستقبل کی فکر میں جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شادی کے بعد تو گویا ہمیں دورہ پڑ جاتا ہے۔ اچھا گھر ہو، اچھا سکول ہو، اچھی تعلیم ہو، اچھا جہیز ہو، اچھا فکنشن ہو وغیرہ وغیرہ۔ ہم دوسروں کے سامنے ایسے ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہمارے پاس قارون کے خزانوں سے بڑھ کر خزانے ہیں چاہے اس کے لیے رات کو ہمیں بھوکا ہی کیوں نہ سونا پڑے۔

May 19, 2014

المدد، الامان، الحفیظ

Almadad, Alaman, Alhafeez



جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں ان کو تو احساس نہیں ہوتا کہ وہ روز ہی اسی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں لیکن جب میرے جیسے خود ساختہ تہذیب دار بندے پاکستان آتے ہیں اور بات بے بات شکریہ ، مہربانی ، برا نہ مانیں کی رٹ لگا کر عزت افزائی کراتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ عملی تو دور کی بات ہم زبانی اخلاق کو بھی تین حرف تین بار بھیج کر طلاق دے چکے ہیں۔

چلو ٹیکنالوجی تو انگریزوں نے بنائی حالانکہ ان سب کی بنیادیں ہمارے مسلمان ہی دے گئے لیکن ایمان، اخلاق اور انسانیت تو ہمارے مذہب نے سکھایا تھا اور کس خوشی میں ہم نے بھلا دیا اور کس سپرپاور کی مخالفت میں ہم نے اپنے بچوں کو یہ ویکسین پلانا چھوڑ دی۔

May 12, 2014

ٹماٹر کی دکان دکھا رہی تھی

Tamater ki dokan dikha rahi thee

خبر: برطانوی شہر مڈلینڈز میں ایک شخص نے طوائف کے ساتھ گاڑی میں پکڑے جانے پر پولیس کو بتایا کہ ان کی گاڑی میں بیٹھی خاتون انہیں ٹماٹر کی دکان دکھا رہی تھی

تفصیل یوں ہے کہ ہمارے ایک پاکستانی بھائی گاڑی میں پھر رہے تھے تو پولیس نے ان کے ساتھ بیٹھی خاتون کو طوائف کے طور پر پہچان کر انہیں روکا تو انہوں نے جواب دیا کہ دراصل وہ تو اس خاتون کو اس لیے ساتھ لیے پھر رہے ہیں کہ وہ ان کو ٹماٹر کی دکان کا راستہ دکھا رہی تھی۔

May 5, 2014

فلم (خورد) بینی

Film (khurd) beeni


گزشتہ چند سالوں میں اتنی فلمیں دیکھی ہیں میں نے کہ کئی بار سنجیدگی سے فلموں پر تبصروں کا بلاگ شروع کرنے کا سوچا لیکن پھر ہماری عوام کی اردو پڑھنے سے محبت ذہن میں آئی اور سوچا جو ڈھول گلے میں ڈالے ہیں پہلے ان کو تو نمٹا لوں لہذا فی الحال محض ایک بلاگ پیش خدمت ہے۔

یوں تو ہر شخص کی اپنی پسند نا پسند ہوتی ہے لیکن تبصرہ کرنے والے کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو اس کا دل کرے وہ لکھے تو آج کا تبصرہ بھی سراسر میری ذاتی پسند پر مشتمل ہے۔

April 28, 2014

کھانا پکانے کی آسان تراکیب

Khana pakany ki asan trakeeb


جو لوگ گھر میں ایسے ہوتے ہیں کہ پانی بھی نوکر پلاتے ہیں یا باجی یا امی یا چھوٹا بھائی تکلیف کرتا ہے اور ان کو بیرون ملک آ کر رہنا پڑتا ہے جہاں کوئی آپ کا کام تو درکنار منہ لگانے کو تیار نہیں ہوتا تو ایسے لوگوں کی خدمت میں حاضر ہیں چند آسان کھانا پکانے کی تراکیب جو ہینگ لگے نہ پھٹکری اور پیٹ بھی بھر جائے کی عملی تفسیر ہیں اور میرے خود کے چھ سالہ ولایتی زندگی کا نچوڑ ہیں۔ کھانے کی ان تراکیب کے لیے آپ کو چند بنیادی اشیا چاہیے ہوں گی جو ہیں

نان اسٹک فرائینگ پین Non Stick Frying pan
لکڑ ہضم پتھر ہضم معدہ
ایسی بھوک جو حس ذائقہ ختم کر دے
 اگر آپ کے پاس آخری دو چیزیں نہیں ہیں تو سستی و کاہلی سے بھی کام چل سکتا ہے۔

اب تیار ہوجائیں ہم بنانے لگے ہیں چند آسان مگر جلد بن جانے والی ڈشز۔

April 21, 2014

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاکستان میں رہنے والے رشتہ داروں کا جواب شکوہ

Bairon e mulk muqeem Pakistanio ke Pakistan main rehny waly rishty daro ka jawab e Shikwa


پاکستانیوں کا وطیرہ ہے کہ تھوڑی تھوڑی باتوں پر ہائے وائے کا ورد کرتے رہتے ہیں اور تازہ ترین وقوعہ جس پر ہر بیرون ملک رہنے والے پاکستانی کو شدت سے تکلیف کا احساس ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں رہنے والے ان کے رشتہ دار و لواحقین ان کی بجائے ان کے پیسے سے محبت کرتے ہیں اور ان کےلاکھ منتوں ترلوں کے باوجود ان کے وطن واپسی پر رضامند نہیں ہوتے اور وہ پردیس میں خوار ہو رہے ہیں جب کہ پاکستان میں بسنے والے ان کے بال بچے عیاشیاں کر رہے ہیں۔

حالانکہ ہمیں باہر رہنے والوں سے پوری ہمدردی ہے کہ ہم خود ملک فرنگ میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہمیں پاکستان میں بسنے والے ان پاکستانیوں سے جن کے رشتہ دار باہر کمانے گئے ہیں سے کوئی ہمدردی نہیں لہذا بے ادبِ بلاگریہ میں ہم ان کی آواز شامل کرتے ہوئے آج کا بلاگ ان ملک میں بسنے والے پاکستانیوں کے نام کرتے ہیں جو اپنے بیرون ملک مقیم اقارب کی امداد کے محتاج ہیں اور جن کی ترجمانی کرنے والا کوئی نہیں۔

بیرون ملک مقیم ہمارے والد، چاچا، ماما، رشتے دار کہتے ہیں کہ ہم سے محبت نہیں کرتے۔ اب کوئی بتائے ان کو کہ بھائی ہم تو کسی سے محبت نہیں کرتے ۔ کیا کبھی کسی پاکستانی کو لڑکیوں کے علاوہ کسی سے محبت کرتے دیکھا ہے؟ اب ہم آپ کے لیے دوہرا معیار کہاں سے لائیں۔ اب ان کو پاکستان چھوڑے سالوں بیت گئے ان کو کیا پتہ پاکستان میں اب معاشرہ کیسا ہے۔ یہاں تو قیامت مچی ہے اور ان کو اپنی محبت کی پڑی ہے۔ یہاں تو والدین بچوں کے نہیں، میاں بیوی کا نہیں، محبوب محب کا نہیں اور لڑکیوں سے محبت بھی کوئی مفت نہیں ایزی لوڈ لگتا ہے بھائی۔لیکن اس میں ان کا اتنا قصور بھی نہیں کہ وہ باہر رہ رہ کر تھوڑی جذباتی ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کو وی آئی پی VIP کا درجہ ملے ان کے آنسو بہیں تو ہم دھاڑیں مار کر رونے لگ جائیں وہ مسکرائیں تو ہم ہنس ہنس کر پاگل ہوجائیں لیکن ایسا کہاں ممکن ہے دنیا بدل گئی پاکستان بدل گیا آج کا نوجوان منافقت کا عادی نہیں اور ویسے بھی ہمارا نعرہ ہے کہ زبان پر کچھ بھی ہو عزت دل میں ہونی چاہیے لہذا ہمارے پردیسی بڑوں کو ایک بار ہمارے دل میں ضرور جھانک لینا چاہیے کہ خواہ ہم منہ پر گالیاں بک رہے ہوں دل سے ہم ان کی عزت ہی کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ہم تو واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پچھلے واپس آنے نہیں دیتے۔ اب آپ ہی بتائیں کیا جب وہ گئے تھے تو ہم سے پوچھ کر گئے تھے؟ اب جو وہ ہم سے پوچھیں تو ہم کیسے کہیں کہ واپس آ جائیں کہ ہم تو عقل کی بات کریں گے کہ اگر واپس آگئے تو گھر کیسے چلے گا؟ اتنی مہنگائی ہوگئی ہے پاکستان میں ۔ پہلے مہینے کا بجلی کا بل ہی ان کی طبعیت درست کر دے گا پھر کہیں گے کاش نہ آیا ہوتا۔ ہم ان کی آسانی کا سوچتے ہیں اور پھر بھی ہم مورد الزام۔ ویسے تو ہمارے دوست گئے ہیں امریکہ، برطانیہ، دبئی وغیرہ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں پر اچھی خاصی عیاشی ہوتی ہے لیکن ہمیں یہ یقین نہیں آتا کہ اصل میں یہ خود ہی نہیں آنا چاہتے کہ باہر جا کر اب یہ پاکستان کے قابل ہی نہیں رہے اور نام ہمارا بدنام کر رہے ہیں کہ بدگمانی بری بات ہے کیا پتہ واقعی آنا ہی چاہتے ہوں واپس پاکستان۔

یہ بات لکھ لیں یہ واپس بھی گئے تو ہوائی اڈے پر اترتے ہی ان کی بس ہو جانی ہے آگے کی منزل تو آگے رہ گئی۔ ہوائی اڈے پر جو سلوک ان کے ہم وطنوں نے ان کے ساتھ کرنا ہے ان کا دل کرے گا پہلی پرواز لیکر واپس چلے جائیں۔ پھر آگے ہر آتا جاتا ان کو باہر کی جنت چھوڑ کر ملکی دوزخ میں آنے پر سرزنش کرے گا۔ پھر جب گرمیاں آئیں پھر ان کو احساس ہوگا۔ ہم تو یہاں پر پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں نہ بجلی نہ پانی نہ گیس نہ پیٹرول کجا زیرزمین ٹرانسپورٹ کے جھولے کجا لو اور مٹی کے جھونکے۔ اور جب مال ختم ہو گا تو رشتے دار، دوست، یار بھی منہ لگانا چھوڑ دیں گے اور تو اور گلی کی نکڑ والا چاچا بھی ادھار ایک پاؤ دال نہیں دے گا تو ان کو پتہ چلے گا۔ ۔ ویسے بھی پاکستان میں تو کتے کو عزت مل جاتی ہے غریب کو نہیں۔

اور کہتے ہیں عیاشی کر رہے ہیں، زیور خرید رہے ہیں، گاڑیاں چلا رہے ہیں، دعوتیں اڑا رہے ہیں اب کوئی جا کر ان کو بتائے کہ نام تو انہی کا ہے۔ کہ فلاں کا بیٹا ہے، فلاں کی بیوی ہے، فلاں کے بچے ہیں، دبئی کا گھر ہے، سعودیہ کا جہیز ہے، امریکہ کا خاندان ہے ہمارا کیا ہے اگر اپنا نام ڈبونا ہے تو بسم اللہ آ جائیں۔ کبھی ہم نے یہ دعوی کیا ہو کہ یہ ہمارا خود کا کمایا مال ہے پھر تو غصہ جائز ہے جب ان کا ہے انہوں نے ہمیں بھیجا ہے تو غصہ کیوںکر کہتے ہیں وہاں کی زندگی بڑی سخت ہے تو بھائی محنت تو کرنی پڑتی ہے نوکری کرنی کونسی آسان ہے اور پیسہ کمانے کے لیے جان تو لگانی پڑتی ہے درختوں پر تو پیسے نہیں اگتے۔ اور پھر کون سا کام آسان ہے اور یہاں کون سی پھولوں کی سیج ہے زندگی۔ قسم سے ایک چوک سے دوسرے چوک تک جانا کسی خواری سے کم ہے۔ زندگی یہاں بھی کوئی آسان نہیں۔ یقین مانیں اینٹیں ڈھونا اتنا مشکل نہیں جتنا لڑکی پھنسانا مشکل ہے اور وہ اس کو عیاشی کہتے ہیں جبکہ آپ تو جانتے ہیں کہ یہ اب سوشل اسٹیٹس ہے اور جب ہماری باری آئی گی تو ہم کیا محنت نہ کریں گے اور اگر ہمیں وہ کوئی بزنس مزنس چالو کر کے دیں گے تو ہم وعدہ کرتے ہیں دل و جان سے محنت کریں گے اور نہ چل سکتا اللہ کی مرضی سے تو دوسرا کاروبار ہم اس سے بھی زیادہ دلجمعی سے کریں گے اور تیسرے میں اس سے زیادہ۔ والدین ویسے ہی کماتے اولاد کے لیے ہیں ہاں اگر وہ چاہتے ہیں ان کے بچے تنگ ہوں، زندگی غربت میں گزاریں، در در کے دھکے کھائیں تو ایسے سہی ہم تنگ ہو لیں گے وہ خوش ہو لیں کہ وہ تو نئے بچے تلاش کرسکتے ہیں ہم تو نئے والدین تلاش کرنے سے رہے اب۔

وہ کہتے ہیں کہ کبھی ہمارے شکرگزار نہیں ہوئےتو پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ بھی پاکستانی قوم میں شامل ہیں ہم نے کبھی کسی کو بھولے سے بھی شکریہ ، مہربانی جیسے الفاظ بولے ہیں کیا اور دوسری بات یہ کہ کون بے وقوف اپنے والدین کا شکر گزار ہو اب بندہ بات بات پر ابا تیری مہربانی ڈیڈ تھینک ہو ویری مچ کہتا اچھا لگتا ہے کیا؟ اچھا اللہ کرے ہمارے بچے بھی ہمارے شکر گزار نہ ہوں بس اب خوش؟ اب تو اس مہینے موٹر بائیک کے پیسے بھیجیں گے ناں؟

نیٹ ورک بلاگ

دیکھا گیا