December 15, 2014

دیکھنا فٹ بال کا میچ لزبن میں

dekhna football ka match Lisbon main

سفر نامہ میڈرڈ اور ریال میڈرڈ  بارے پڑھ کر آپ ہماری فٹ بال سے محبت بارے تو آپ آگاہ ہی ہوں گے۔ اب  ایسا ہوا کہ اللہ نے کچھ ایسا دماغ میں ڈالا کہ پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے موضوع بھی فٹ بال کو چنا یعنی کی پڑھائی کہ پڑھائی اور مزے کا مزہ۔ ہر پاکستانی کی طرح یوں تو کرکٹ ہی میرا پہلا پیار تھا لیکن جب محبوب ہی آوارہ نکلے تو بندہ خاک محبت کرے تو آہستہ آہستہ فٹ بال کا ہو کر رہ گیا۔

December 8, 2014

ادلی کی بدلی - سات ساتھ

adli ki badli- sat sath



قسط نمبر سات

اماں کہتی تھیں کہ جہاں جہاں والدین کی مار پڑتی ہے وہ جگہ دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو جاتی ہے اور یہی محاورہ استاد صاحب بھی فرمایا کرتے تھے تو اسی روشنی میں بریف کیس یعنی زوجہ مقبوضہ شوہروں کی بیویوں کے کہے پر آنکھیں بند کرکے چلنا بھی سمجھ آتا ہے کہ جہاں دو والدین کو چھوٹ ہے تو تیسرے والدین یعنی ساس سسر کو استشنیٰ کیوں اور ان کی مار بھی سہہ کر بندہ جنت میں جا سکتا ہے تاہم یہاں پر اس بات کا ذکر اس لیے نکل آیا ہے کہ جب جب ہمیں چوٹ لگتی تھی تو اماں ایسے ہی دل کے بہلانے کو کہہ دیتی تھیں بیٹا جہاں چوٹ لگتی ہے اس جگہ کے لیے بھی جنت واجب ہو جاتی ہے تو میں روتے ہوئے بھی سوچا کرتا تھا کہ بھائی اماں اور استادوں کی مار کھا کھا کر جسم ایک چھوڑ ہزار بار جہنم کی آگ سے مکتی پا چکا ہے اب اور کتنی نجات ملے گی تو جب ہوش آیا اور سر میں ٹیسیں اٹھیں تو یہی خیال جاگا کہ جہنم سے نجات کے چکر میں یہیں پر ہی جسم ضائع ہو جائے گا۔

December 1, 2014

ادلی کی بدلی - چھ- چھکا

Adli ki badli- cheh chaka


قسط نمبر 6
اس روز پہلی بار مجھے یہ بدن کی ادلی بدلی کا فائدہ محسوس ہوا کہ کم از کم یہ داغ لے کر میں نہیں جینا چاہتا تھا کہ اس نے اتنا بڑا ہو کر پیشاب بیچ میں کردیا تھا۔ آپ ہی بتائیں جب جب امی ڈانٹتی چھوٹے بھائی معنی خیز اشارے کرتے، جب جب میری توجہ کھانے پر ہوتی میرے بھائی زیر لب ہنس رہے ہوتے کہ دیکھیں آج بند کہاں ٹوٹے۔ جب کبھی میرے کپڑوں پر پانی بھی گر جاتا تو بھی ہر ایک نے پوچھنا تھا بھائی پھر؟ حالانکہ پھر میں کچھ بھی نہیں لیکن کرنے والا اور دیکھنے والا بخوبی جانتا ہے۔ جب جب میرے بھائی مجھ سے اردو ب میں مدد کے سلسلے میں کیے کرائے پر پانی پھیرنا کا اصل مطلب سمجھنے آتے تب تب میں نے انہیں سرد مہری سے سمجھانا تھا اور آئندہ جب بھی وہ کچھ پڑھنے آتے ان کو انکار کرنا پڑتا کہ منحوس اردو ب کے علاوہ فزکس کیمسٹری کی بھی بے عزتی کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔

November 24, 2014

ادلی کی بدلی- پانچ کی کھینچ کھانچ

adli ki badli - panch ki khainch khanch



اس سے پہلے پڑھینے کے یہاں کلک کریں

جتنی دیر یہ سوتا ہے اتنی دیر تو اصحاب کہف بھی نہیں سوئے ہوں گے۔ باہر سے آواز آئی اور میں دیکھے بغیر ، پوچھے بغیر شرطیہ کہہ سکتا تھا کہ یہ آج کے والد صاحب ہی ہوں گے۔ مجھے فقیر ابا کا طمانچہ یاد آیا اور میں خود سے یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا اور نہیں بھی کھوتا تو جو پاتا ہے وہ کسی کو دکھانے کے قابل نہیں ہوتا لہذا اٹھ ہی جائیں تو اچھا ہے۔ ویسے بھی اب تک میں ہر رنگ میں جلنے کےلیے تیار ہو چکا تھا یہاں تک کہ چار ٹانگوں والا گدھا بن کر بھی جاگتا تو حیرانی نہ ہوتی حالانکہ دس منٹی صاحب یقین دہانی کرا چکے تھے کہ کم از کم گدھے بنے بھی تو دو ٹانگوں والے ہی بنیں گے یعنی انسان کے جامے میں ہی رہیں گے لیکن انسان بڑی بے اعتباری شے ہے کوئی پتہ نہیں کب جامے اور پاجامے سے باہر آجائے۔

November 17, 2014

ادلی کی بدلی -چوکا

Adli ki badli- choka

زندگی میں پہلی بار سمجھ آیا مولوی صاحب کیوں کہا کرتے تھے دنیا دھوکے کا گھر ہے۔ اب تو کسی پر اعتبار نہ تھا پتہ نہیں یہ جو ماں تھی اصل میں کون تھی یا تھا یا یہ میرا ابا اصل میں کوئی بادشاہ تھا یا کوئی تخریب کار خود کش دھماکہ کرنے والا تھا۔ سب کچھ ایسا گڈمڈ تھا کہ گویا میری زندگی نہ ہوئی حکومت پاکستان ہو گئی۔ کوئی نہیں آج بھی بارہ بج جائیں گے بندے ہمت کر۔ مجھے اپنے کل کے عزم کہ آج باہر نکلنا ہے گریبوں کی مدد کینی ہے وغیرہ وغیرہ اپنے جسم کی طرح بدلتے محسوس ہوئے اور غریبوں کی کیا مدد کرتا کہ مجھے خود مدد کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ ماں کی آواز آئی فرح آ گئی۔ اب یہ فرح کس مصیبت کا نام تھا۔ اتنی دیر میں ایک اور لڑکی آئی اور بولی ابھی تک تو ایسے ہی بیٹھی تیار نہیں ہوئی؟

November 10, 2014

ادلی کی بدلی - تین کا تڑکا

Adli ki badli- teen ka terka

اس سے پہلے 

واہ میرے مولا تیرے رنگ بھی نرالے ہیں۔ کل بادشاہ تھے آج مانگنے والے ہیں۔ غربت میں شعر کی آمد کوئی ایسا عجیب امر نہ تھا۔ مجھے خیال آیا کہ حال اپنا بھی بہادر شاہ ظفر والا ہوا بس وہ رنگون چلا گیا اور ہم سنگون (سنگین کو رنگون کا ہم قافیہ بنانے کو سنگون بنایا گیا)۔ آج پندرہ ہزار سے کم نہ لے کر آئیو۔ مجھے بھیک مانگنے سے زیادہ زور کا جھٹکا لگا۔ پندرہ ہزار تو میں نے آج تک اکٹھا نہ دیکھا تھا بھیک کیسے مانگ کر لاتا۔ پہلے خیال آیا کہیں اس کو پتہ تو نہیں کل میں آپ جناب بنا تھا پھر اس خیال کو جھٹکا اورجی تو آیا کہ کہوں بھیک مانگنے جا رہا ہوں یا تاوان لیکن گال ابھی تک گرم تھا ۔

November 3, 2014

ادلی کی بدلی - دو نمبری

Adli ki badli - 2 numbri



مجھے یاد آیا ایک بار جب میں نے محلے کی لڑکیوں کا چھیڑا تھا اور ابا کے سامنے شکایت لگی تھی تب بھی میرا یہی حال
ہوا تھا کہ سانس آتا تھا تو جاتا نہ تھا اور جاتا تھا تو آتا نہ تھا۔ کیا کسی نے مجھے بھنگ پلا دی ہے؟ پہلا خیال یہی آیا جس سے مجھے احساس ہوا کہ میری تھوڑی بہت سوچ نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میں امریکہ میں ہوتا تو سوچتا شاید کوئی انگریزی فلم کا سین چل رہا ہے لیکن پاکستان میں تو صرف جن بھوت۔۔۔ کیا کوئی روح کا چکر تو نہیں؟ کسی جن نے میرے جسم پر تو قبضہ نہیں کرلیا؟مجھے جنوں کے ٹیسٹ پر انتہائی افسوس ہوا کہ کالا کلوٹا، گنجا، فربہہ مائل، چھوٹے قد کا جسم لے کر کیا کریں گے اور اب میں ہیرو ہیرا لال بنا کھڑا تھا۔ چل استاد اب گلے پڑا ڈھول بجانا پڑے گا دیکھیں کیا ماجرا ہے ویسے کیا پتہ کوئی چڑیل عاشق ہو گئی۔ میں تو ڈروانی کہانیاں پڑھ کر اکثر سوچا کرتا تھا کہ کاش کوئی چڑیل ہی عاشق ہو جائے ، کوئی بکری عاشق ہو جائے ، کوئی تو آخر مخالف جنس ہماری قسمت میں لکھی جائے۔ چڑیل کا سوچ کر ڈر لگا لیکن پھر سوچا کہ اگر کوئی مجھے ایسا شہزادہ بنا سکتی ہے تو خود پری کیوں نہیں بن سکتی۔

October 27, 2014

ادلی کی بدلی

Adli ki badli



ارادہ تو تھا کہ یہ ناول سنجیدہ طرز پر لکھا جائے اور ڈرامائی تشکیل دی جائے لیکن ٹیلنٹ کی قدر ہی نہیں کہ ہماری طرف ڈرامے بھی ترک یا ترک تعلق کے چلتے ہیں لہذا آپ کی شامت ہے پڑھیں اس کو چار پانچ قسطوں میں ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔ 

October 20, 2014

میڈرڈ- آخرکار

Madrid Aakhirkaar

میڈڑڈ سے محبت کی وجہ کی تمام کہانی آپ پڑھ چکے ہیں لہذا یورپ آنے کے بعد ان چند جگہوں پر جہاں جانے کا دل کیا ان میں سے ایک میڈرڈ بھی تھی اور بڑی خواہش تھی کہ ریال میڈرڈ Real Madridکے اسٹیڈیم سانتیاگو برنباؤ Santiago Bernabeu کے سائے تلے ایک تصویر کھچنوائی جائے لیکن میڈرڈ کوئی سیاحتی مقام تو ہے نہیں جہاں کوئی سستی پرواز مل جاتی۔

اسی دوران میڈرڈ کے دیرنہ حریف بارسلونا اور ان کے اسٹیڈیم کا چکر لگا آیا۔ جرمنی میں بائرن میونخ اور اسٹوٹ گارٹ کلب کے اسٹیڈیموں کا بھی دیدار ہو گیا۔ اٹلی انٹر اور اے سی میلان کے سان سیرو کی بھی زیارت ہو گئی لیکن میڈرڈ کا نمبر نہ آیا۔

October 13, 2014

میڈرڈ جانا ہے تو فٹ بال میں آ

Madrid jana hai to football main aa



میڈرڈ Madrd جس کو آزاد دائرۃالمعارف یعنی وکی پیڈیا Wikipedia میں میدرد بھی لکھا گیا ہے اور جو اکثر مقامات کے ناموں کی طرح انگریزی اثر کے تحت میڈرڈ بن گیا ہے اسپین Spain کا دارالحکومت ہے اور میرے سمیت ہر فٹ بال کا شوق رکھنے والے کے لیے اہم مقام ہے۔ لیکن اس سے قبل کے میڈرڈ کے سفر کا احوال لکھا جائے بہتر ہے کہ آپ میرے فٹ بال کے کارناموں سے بھی واقف ہوں جائیں تاکہ میڈرڈ سے میری وابستگی آپ کی سمجھ میں آ سکے۔

October 6, 2014

ایک دن کراچی کے ساتھ

Aik din Karachi ke sath



بندہ جہاں نہ گیا ہو یا جہاں کے بارے دوسروں سے سنے تو اس جگہ بارے اسے دوسروں کی بات پر اعتبار کرنا پڑتا ہے اوپر سے ہمارا میڈیا ، پورا شادی بد خبر ہے ہمیشہ چن چن کر بری باتیں ہی سنائے جاتا ہے اسی لیے کراچی ہمیشہ سے میرے لیے نوگو ایریا No go area بنا رہا ہے۔ میرا خیال تھا تمام دنیا گھوم لوں کراچی نہ جا پاؤں گا۔ لیکن قدرت کے کاموں پر کس کا دخل ہے کہ اب کی بار تالن Tallinn جاتے واپسی براستہ کراچی تھی اور جو میں نے خاص طور پر پیر کی ٹکٹ لی تھی کہ اتوار رات کو دس بجے ملتان سے کراچی کے لیے پرواز چلتی ہے تو کم سے کم انتظار کرنا پڑے گا لیکن ہوا یوں کہ پی آئی اے نے سوچا کہ ایک تو میرا پاکستان دیکھنے کابھی حق بنتا ہے اور دوسرا میں پی آئی اے کی اور برائیاں کر لوں، انہوں نے پرواز ہی ملتان کراچی کی ختم کردی۔ اب واحداختیار شاھین ائیر تھی جس نے اتوار کی صبح آٹھ بجے چلنا تھا گویا کراچی میں چوبیس گھنٹے رکنا قرار پایا۔

September 29, 2014

سیہ کا شکار

Seh ka shikar



اس سے قبل ہماری شکاری مہمات کا احوال آپ پڑھ چکے ہیں جس سے ہماری حس شکار آپ پر بخوبی آشکار ہو چکی ہو گی لیکن تمام تر بزدلانہ رجحانات و طبعیت رکھنے کے باوجود میں کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی نئی جگہ جانے کو تیار رہتا ہوں اور اسی ذہنی آوارہ پسندی نے وہ گل کھلائے جو آپ اکثر میرے بلاگوں میں پڑھتے رہتے ہیں۔

مانا کہ اولاد اللہ کی رحمت ہے لیکن صرف اپنی۔ پرائی تو نری زحمت ہے خواہ وہ آپ کے کزن ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک روز چند کزن آئے اور مجھے پیشکش کی کہ آج شکار کا پروگرام ہے چلو گے؟میں نے پوچھا کس کی شامت آئی ہے تو جواب ملا سیہ کے شکار کو جارہے ہیں۔ میں نے سوچا واہ جی واہ۔ نہ مرنے کا خطرہ، نہ زخمی ہونے کا ڈر، نہ تیر اندازی نہ چاند ماری میں نے حامی بھر لی۔ حکم ملا کہ رات کو دس بجے تیار رہنا۔ میں نے تفصیل پوچھی نہیں اور انہوں نے بتائی نہیں۔ میں غلط سمجھا شاید کہیں دور جانا ہے رات کو کزن کے گھر رہیں گے اور صبح تاخیر سے نکلنے کے خوف سے سب ایک جگہ رہیں گے تاکہ صبح سویرے ہی گھر سے نکل جائیں کیوں کہ آج کل کی نوجوان نسل کی طرح ہمیں بھی صبح اٹھنا عذاب لگتا ہے۔ وہ غلط سمجھے شاید مجھ میں ہمت ہو نہ ہو سمجھ تو کم از کم ہو گی اور مجھے سیہ کے شکار کی تفصیل پتہ ہوں گی۔

September 22, 2014

فیس بک استعمال کرنے کا درست طریقہ

Facebook istamal kerny ka darust tareqa


 1۔ سب لڑکے ہیں- پاکستانی فیس بک استعمال کرنے والے ایک بات پلے باندھ لیں کہ فیس بک استعمال کرنے والے پاکستان میں نوے فیصد سے زائد لڑکے ہیں خواہ لڑکوں اور لڑکیوں کے اکاؤنٹ کا تناسب کتنے فیصد ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی آسان زبان میں اکثر فیس بک استعمال کرنے والے لڑکے ہیں جنہوں نے لڑکیوں کے ناموں سے اکاؤنٹ Account یا کھاتے بنا رکھے ہیں۔ لیکن چونکہ ہم پاکستانیوں کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ ہم اچھی باتیں یاد نہیں رکھتے لہذا یہ بھول جائیں اور بے فکر ہو کر بے تحاشا ان لڑکیوں سے بات کریں جو لڑکوں نے نجانے زندگی میں کس کمی کے مداوے کی خاطر بنا رکھے ہیں۔ بلکہ اگر ہو سکے تو اپنا بھی ایک لڑکی کے نام سے اکاؤنٹ بنا لیں اور جیسے ہی اپنے اصل اکاؤنٹ سے پوسٹ Post کریں فوراً اس لڑکی کے اکاؤنٹ سے تبصرہ کردیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے لڑکی والے اکاؤنٹ میں رونق میلہ لگا رہے گا بلکہ لڑکے والا اکاؤنٹ جس کی پوسٹیں دوسرے لائیک Like کرنا بھی توہین سمجھتے ہیں وہ بھی شاد و آباد رہے گا۔

September 8, 2014

کہانی: پھرتیوں کا انجام

kahani : phurtion ka anjaam


پیارے بچو روز روز کی کہانیاں پرچوں میں لکھ لکھ کر آپ بھی بور ہو چکے ہوں گے لہذا اگلے پرچوں کے لیے ایک نئی قسم کی کہانی یہاں تحریر کر رہے ہیں تاکہ غیر اخلاقی نتیجہ بھی خاطر خواہ نکل سکے اور پڑھنے والے اور لکھنے والے بور بھی نہ ہوں۔

واقعہ فقط اتنا سا ہے کہ ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی تھی۔لیکن کہانی خاصے مزے کی ہے۔ویسے بھی ہمارا قومی کردار ہے کہ پرائی مصیبت پر تماشہ دیکھنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے اور جب تک اپنے سر پر نہ پڑے تب تک تمام لوگ چٹخارے لے لے کر کہانیاں بیان کرتے ہیں اور بطور بلاگر یہ ہمارا فرض بھی ہوا گویا کہ ہماری مثال اسی بچے کی ہے جس کے بارے میں ایک شخص نے کہا اس کا باپ شاعر ہے ، اس کا دادا کمنٹیٹر تھا اور اسکی والدہ "خاتون" ہے۔ گویا ہم میں بھی نمک مرچ لگانے کے تمام لوازمات پورے ہیں تو کہانی یوں ہے کہ ایک گاؤں میں حسب معمول دو طبقے کے لوگ تھے۔ ایک امیر جو چوہدری ہیں اور دوسرے غریب جو نائی ، میراثی ، موچی ، بھنگی سب کچھ ہیں۔ اب اس گاؤں میں کچھ ایسے ذات کے چوہدری بھی تھے جو تھے تو چوہدری مگر تھے غریب اور غریب کی کوئی ذات اور عزت نہیں ہوتی۔

September 1, 2014

پاکستان میں مرنے کے آسان طریقے

Pakistan main marny ke asaan tareqy


جیسا کہ روایت کی جاتی ہے کہ حضرت آدمؑ کو سری لنکا یا سیلون میں اتارا گیا اور وہاں ان کے قدموں کے نشانات بھی پائے جاتے ہیں ایسے ہی گمان غالب ہے ہابیل اور قابیل کو برصغیر پاک و ہند میں بھیجا گیا اور ثبوت اس بات کا یہ ہے کہ آج بھی یہاں ان کے پیروکار اسی شدومد سے قتل و غارت میں مشغول ہیں۔

لیکن چونکہ بات پاکستان کی ہے اور پاکستان کی بات قائد اعظم سے شروع ہوتی ہے تو قائد اعظم جن کو مولوی حضرات قائد اعظم بلاتے نہیں اور خود ساختہ دانشور قائد اعظم مانتے نہیں کہ پہلے قائد اعظم کو برا بھلا کہنا فیشن اور دانشوری کہلاتا تھا اب فوج اور پاکستان کو لعن طعن کرنا دانشوری کے زمرے میں آتا ہے نے فرمایا کہ پاکستان اس دن وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔ اچھا ہوا قائد اعظم اچھے وقت میں وفات پا گئے وگرنہ بہت سارے سوال اٹھ سکتے تھے کہ تب سے اب تک پاکستان پر کون حکمران رہا اور وہ ٹیکس جو ہم بھرتے ہی نہیں کون کھاتا رہا مزید بر آں وہ مسلمان سنی تھا یا شعیہ تھا؟سندھی تھا یا پنجابی تھا؟ پرانے زمانے میں انصافیے نہیں تھے تو وہ لیگیا تھا یا جیالا تھا یا کانگریسی تھا؟ اور پھر جب دوسرا مسلمان ہوا تو اس نے پاکستانی کی حیثیت سے پہلے کی مخالفت میں اس کو گالم گلوچ کی، ہاتھا پائی کی یا جد امجد کی روایت پر چلتے ہوئے قتل کر کے قضیہ ہی تمام کیا۔

نیٹ ورک بلاگ

دیکھا گیا