February 11, 2016

سلووینیا کا سفر



 سلووینیا Slovenia جانے کا سودا دماغ میں تب کا سمایا تھا جب کا پہلی بار اٹلی گیا تھا۔ اس میں زیادہ قصور میرے دماغ سے نقشہ نویسوں کا تھا جنہوں نے ایسے نقشے بنائے کہ تمام یورپ ایک بالشت میں سما جاتا ہے اور سلووینیا تو گویا وینس سے ایک پور دور تھا۔ لیکن جانا جب تک لکھا نہ ہو تب تک کیسے ہو تو اٹلی کے چکر لگا لگا کر جہاز گھس گئے یہاں تک کہ ایدریا ہوائی کمپنی نے لیوبلیانا سے براہ راست تالن کے لیے فضائی سروس شروع کر دی لیکن ہم جہاں نقد پر آدھا ادا کرنا ہو کو ادھار پر دوگنا ادا کرنا پڑے کو ترجیع دیتے ہیں اس ارادے پر قائم رہے کہ جائیں گے تو اٹلی سے براستہ سڑک جائیں گے کہ اتنے اچھے ہم بھی نہیں کہ براہ راست ٹکٹ خریدیں، ہوٹل بک کرائیں اور جائیں بھی کہاں؟ لوبییانا۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 11, 2016

چھٹی سالگرہ



لیں جی، یہ بیچارہ سا بلاگ چھ سال کا بوڑھا ہو گیاہے۔ ان چھ سالوں میں یہ دو سو ساتویں پوسٹ ہے جبکہ پھیرے مار یعنی وزیٹر تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار تک جا پہنچے ہیں۔ یوں تو کسی بھی بلاگ کی کامیابی کو جانچنے کے کئی ایک نسخے ہیں جن میں سے ہمارے نزدیک سب ناکام ہیں اور بس کامیابی یہ ہے کہ چھ سال سے مسلسل لکھے جا رہا ہوں-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 1, 2016

نیا سال اور منانا


جس دور میں ہم پیدا ہوئے تب نیا سال منانے کا رواج نہ تھا- اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں کسی کو روٹھے رشتہ داروں کو منانے سے فرصت ملے تو کچھ اور منائے- جب نیا سال آنے لگتا تو ہم صرف اس لیے پرجوش ہوجاتے کہ کاپیوں پر سال کے ہندسے بھی تبدیل ہوں گے اور ہم جو سارا سال محض دن اور ماہ لکھ کر کام چلایا کرتے تھے دسمبر میں سال بھی لکھنا شروع کردیتے۔ لیکن ہائے ری ہماری سادگی کہ جس بے تابی سے انتظار کیا کرتے اسی شدت سے فراموش بھی کر دیتے اور نئے سال کے پہلے پندرہ دن بدستور پچھلا سال ہی لکھے جاتے اور آخر تنگ آ کر دوبارہ دن اور ماہ پر لوٹ آتے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 21, 2015

قائد اعظم- اردو مضمون


پیش تحریر: کمزور دل اور تنگ دل حضرات یہ مضمون نہ پڑھیں

قائد اعظم 25 دسمبر 1887 کوکراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپ کا خاندان جناح کہلاتا تھا۔ چونکہ اس وقت شعیہ سنی وغیرہ پیدا ہونے کی سہولت موجود نہ تھی لہذا وہ مسلمان کہلائے- اگرچہ ان کی وفات کے بعد خاصے لوگوں نے انکو یہ سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ان کو زیادہ تر مسلمان ہی گنا جاتا ہے-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 11, 2015

موٹاپا کم کرنے کے آسان نسخے



 موٹوں  اور موٹاپا دونوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے انسان کو بے رحم ہونا پڑتا ہے فرق یہ ہے کہ پہلے کے لیے دوسروں کے لیے بے رحم ہونا پڑتا ہے اور موخر الذکر کے لیے اپنے آپ سے بے رحم ہونا پڑتا ہے اور ویسے بھی کچھ بھی اوقات سے باہر ہو جائے تو واپسی مشکل ہوتی ہے خواہ وہ آپ کا پیٹ ہی کیوں نہ ہو جو پیٹ سے گیٹ کا فاصلہ تو چند دنوں میں طے کر لیتا ہے لیکن ایسی شکل جس کوکسی حد تک پیٹ کہا جا سکتا ہو میں واپسی کے لیے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 1, 2015

تین خود ساختہ اردو بلاگروں کی ملاقات


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ تین بزعم خود اردو بلاگنگ کے ٹھیکیدار اکٹھے ہوئے- ان میں سے ایک ڈاکٹر ایک دانشور اور ایک ادیب تھا۔ عام طور پر جب اتنے بڑے لوگ اکٹھے ہوں تو لوگوں کو توقع ہوتی ہے کہ کوئی ادب کی بات ہو گی، کوئی دانشوری جھاڑی جائے گی، کچھ تخلیقی موضوع زیر بحث ہو گا کچھ شاہ پارہ تخلیق ہوگا تو ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اس ملاقات کے کچھ مکالمے ٹکڑوں کی صورت میں جس کو دیسی زبان میں "ٹوٹے یا ٹریلر" کہا جاتا ہے پیش کیے جا رہے ہیں۔ جہاں جہاں گفتگو کرنے والا کا نام نہیں لکھا وہاں اپنی صلاحیت بروئے کار لائیں اور تینوں میں سے جو مناسب لگے اس کو ٹانگ کر کام چلائیں۔ آخر میں یاد کراتا چلوں کے یہ تمام واقعات فرضی نہیں ہیں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

November 21, 2015

پینتالیس سے صفر تک کا سفر


 وقت کتنی جلدی گزرتا ہے کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو چھٹیاں گزارنے گھر آیا ہو یا کسی غیر محرم لڑکی سے ساتھ ہوٹل یا پارک میں۔ چونکہ صنف نازک کو مجھ سے علاقہ نہیں اور میرے علاقہ غیر میں ان کا گزر نہیں تو میں چھٹیوں کے بارے کماحقہ روشنی ڈال سکتا ہوں کہ گھر آنے سے پہلے الٹی گنتی چل رہی ہوتی ہے کہ باقی دس دن رہ گئے، چار دن رہ گئے۔۔۔ اور وہ الٹی گنتی گھر پہنچ کر اسٹاپ واچ سی اندھا دھند بھاگنے لگتی ہے کہ یار یہ کل آیا ہوں دو ماہ گزر گئے باقی چھ دن رہ گئے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

November 1, 2015

خون آشام چمگادڑ کا شاہ کار


 اصل میں اپنی خوف کی کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ اگلی کہانی تھی لیکن بیچ میں آگئی دوسویں پوسٹ۔ تو سلسلہ وہاں سے ہی جوڑتے ہیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔

اتفاق سے کچھ دن قبل عمیر لطیف جو پانچواں درویش کے نام سے لکھتے ہیں نے مجھے ایک ویڈیو میں ٹیگ گیا اور پوچھا کہ میں اس بارے اپنی رائے دوں۔ اب جانوروں پرندوں پر اردو بلاگ لکھ لکھ کر بہت سے لوگ ہمیں حیوان نہیں تو کم از کم حیوانات کا ماہر سمجھنے لگ گئے ہیں اور اگر میں کتے بلوں کا ڈاکٹر بن جاؤں تو امید واثق ہے کہ کام چل پڑے گا بہرحال ویڈیو تھا کہ سرگودھا میں کسی مخلوق نے باغوں پر حملہ کر دیا اور تمام پھل چٹ کر گئے اور بیچارے مالکان روتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے محکمہ زراعت اور جنگلی حیات والوں کا انٹرویو کیا تو وہ بھی ادھر ادھر کی اڑاتے رہے اور کچھ ٹھوس بتانے سے قاصر تھے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 21, 2015

ایک دن میرے ساتھ



جب پہلا بلاگ لکھا تھا تو یہ ارادہ تو تھا کہ اب یہ لکھنا لکھانا جاری رہے گا لیکن یہ پتہ نہ تھا کہ چھ سال تک لکھتا چلا جاؤں گا، دو سو پوسٹ لکھ ڈالوں گا کہ چھ سال قبل ہم نے سوچا نہ تھا کہ مزید چھ سال زندہ بھی رہ پائیں گے۔ تو اب چونکہ یہاں تک پہنچے ہیں تو سوچا کیوں نہ اس ڈبل سینچری کی خوشی میں آپ کو اپنے بارے آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 11, 2015

خوف زدہ اور شوق زدہ


روایت ہے کہ ایک بار دو اشخاص میں شرط بد گئی- شرط یہ لگی کہ اگر ایک شخص قبرستان میں رات کو جا کر گوشت کی دیگ پکائے تو اس کو انعام میں دوسرا شخص سو اونٹ دے گا۔ ایسی نامعقول شرط سے ہی آپ شرط کے حرام کیے جانے کی وجہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کہتے ہیں اگر اونٹ پالو تو دروازے اونچے کرنے پڑتے ہیں اور خود اندازہ لگا لیں سو اونٹ پالنے کے بعد دروازے بلند کرتے کرتے ایفل ٹاور نما کچھ چیز رہ جائیں گے دروازے نہیں رہیں گے- اب اتنے بڑے صرف معدے ہو سکتے ہیں دروازے نہیں- دوسرا یہ بھی ہے کہ ایسی شرط لگا کر کوئی اپنا پرانا بدلہ اتارے تو الگ بات وگرنہ اس میں تو فائدہ تو سنانے والوں کا اور سننے والوں کا ہے-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad