September 8, 2014

کہانی: پھرتیوں کا انجام

kahani : phurtion ka anjaam


پیارے بچو روز روز کی کہانیاں پرچوں میں لکھ لکھ کر آپ بھی بور ہو چکے ہوں گے لہذا اگلے پرچوں کے لیے ایک نئی قسم کی کہانی یہاں تحریر کر رہے ہیں تاکہ غیر اخلاقی نتیجہ بھی خاطر خواہ نکل سکے اور پڑھنے والے اور لکھنے والے بور بھی نہ ہوں۔

واقعہ فقط اتنا سا ہے کہ ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی تھی۔لیکن کہانی خاصے مزے کی ہے۔ویسے بھی ہمارا قومی کردار ہے کہ پرائی مصیبت پر تماشہ دیکھنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے اور جب تک اپنے سر پر نہ پڑے تب تک تمام لوگ چٹخارے لے لے کر کہانیاں بیان کرتے ہیں اور بطور بلاگر یہ ہمارا فرض بھی ہوا گویا کہ ہماری مثال اسی بچے کی ہے جس کے بارے میں ایک شخص نے کہا اس کا باپ شاعر ہے ، اس کا دادا کمنٹیٹر تھا اور اسکی والدہ "خاتون" ہے۔ گویا ہم میں بھی نمک مرچ لگانے کے تمام لوازمات پورے ہیں تو کہانی یوں ہے کہ ایک گاؤں میں حسب معمول دو طبقے کے لوگ تھے۔ ایک امیر جو چوہدری ہیں اور دوسرے غریب جو نائی ، میراثی ، موچی ، بھنگی سب کچھ ہیں۔ اب اس گاؤں میں کچھ ایسے ذات کے چوہدری بھی تھے جو تھے تو چوہدری مگر تھے غریب اور غریب کی کوئی ذات اور عزت نہیں ہوتی۔

September 1, 2014

پاکستان میں مرنے کے آسان طریقے

Pakistan main marny ke asaan tareqy


جیسا کہ روایت کی جاتی ہے کہ حضرت آدمؑ کو سری لنکا یا سیلون میں اتارا گیا اور وہاں ان کے قدموں کے نشانات بھی پائے جاتے ہیں ایسے ہی گمان غالب ہے ہابیل اور قابیل کو برصغیر پاک و ہند میں بھیجا گیا اور ثبوت اس بات کا یہ ہے کہ آج بھی یہاں ان کے پیروکار اسی شدومد سے قتل و غارت میں مشغول ہیں۔

لیکن چونکہ بات پاکستان کی ہے اور پاکستان کی بات قائد اعظم سے شروع ہوتی ہے تو قائد اعظم جن کو مولوی حضرات قائد اعظم بلاتے نہیں اور خود ساختہ دانشور قائد اعظم مانتے نہیں کہ پہلے قائد اعظم کو برا بھلا کہنا فیشن اور دانشوری کہلاتا تھا اب فوج اور پاکستان کو لعن طعن کرنا دانشوری کے زمرے میں آتا ہے نے فرمایا کہ پاکستان اس دن وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔ اچھا ہوا قائد اعظم اچھے وقت میں وفات پا گئے وگرنہ بہت سارے سوال اٹھ سکتے تھے کہ تب سے اب تک پاکستان پر کون حکمران رہا اور وہ ٹیکس جو ہم بھرتے ہی نہیں کون کھاتا رہا مزید بر آں وہ مسلمان سنی تھا یا شعیہ تھا؟سندھی تھا یا پنجابی تھا؟ پرانے زمانے میں انصافیے نہیں تھے تو وہ لیگیا تھا یا جیالا تھا یا کانگریسی تھا؟ اور پھر جب دوسرا مسلمان ہوا تو اس نے پاکستانی کی حیثیت سے پہلے کی مخالفت میں اس کو گالم گلوچ کی، ہاتھا پائی کی یا جد امجد کی روایت پر چلتے ہوئے قتل کر کے قضیہ ہی تمام کیا۔

August 25, 2014

لنڈی سے بلونڈی اور بلونڈی سے لنڈی تک

Londi se blondie tak aur blondie se londi tak



میرا ماموں زاد صبح صبح میرے پاس آیا اور بولا علی بھائی ہم نیا کتا لینے جا رہے ہیں۔ اچھا بھائی، کہاں سے ؟ لاہور سے۔ 
میرے دماغ میں سیاسی بات آئی لیکن میں نے پوچھا کیوں بھائی یہ ہے تو سہی۔ اس نے کہا کہ یہ تو دیسی ہے یا زیادہ سے زیادہ کوئی ملی جلی نسل ہے لیکن اب جو ہم لینے جا رہے ہیں وہ خاص الخاص نسل در نسل سے لیبرے ڈور Labrador نسل کا کتا ہے۔ میں نے کہا یار یہ تو کوئی شرافت نہ ہوئی ہم تو جب بھی کتا لائے ہیں آپ کا ساتھ لائے ہیں آپ اکیلے اکیلے۔ اس نے کہا اس بندے کے پاس ایک ہی ہے اور ویسے بھی ہمارے ماموں کے پاس ماضی میں اچھے کتے رہے ہیں لہذا میرا مقصد فقط چھوٹے ماموں زاد سے مذاق کرنا تھا۔

August 18, 2014

مصر اور ہم

Misar aur hum


 اصل میں بات کیا ہے کہ ایک تو ہمیں عربی خواتین کی جسامت سے ڈر لگتا ہے دوسرا عربوں کی پولیس کے ڈنڈے سے ڈر لگتا ہے لہذا ہم نے عربی خواتین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔چاہے ممیاں ہوں یا بیٹیاں ہمیں دونوں سے ہی ڈر لگتا ہےاوپر سے ہم بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں کہ ایک دیہاتی اپنے گاؤں کسی عرب ملک سے ہوکر آیا تو کہنے لگا کہ بڑے نیک ہوتے ہیں عربی۔ میری ایک عربی سے لڑائی ہوگئی تو میں اس کو گالیاں نکالوں وہ مجھے قران مجید سنائے۔ اور اگر عرب ممالک میں جا کر اگر یہ بات دماغ سے نکل بھی گئی تو ہمیشہ اپنی نام نہاد عزت کا اتنا خیال رہا کہ کبھی کسی سے اپنی محبت کا اظہار اس ڈر سے نہ کر سکے کہ عورت ذات کے پیٹ میں کبھی کچھ ٹکا ہے ۔ بات پورے شہر میں پھیل جائے گی اور اپنی بے عزتی ہوجائے گی۔

August 11, 2014

سارے (گا)ما

saare (ga) ma


ایسٹونیا میں جس سے ملیں اس کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر آپ ایسٹونیا کیسے آئے؟ اب بندہ تقدیر کے لکھے دھکے اور ماتھے پر لکھے الفاظ نہ پڑھنے والوں کو کیسے پڑھائے تو ایسوں کو کوئی تسلی بخش جواب دینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اگلا سوال ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی ساریما Saaremaa گئے ہیں؟ ساریما ایسٹونیا Estonia کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو ایسٹونیا کے مغرب میں واقع ہے۔ یوں تو ایسٹونیا میں کئی چھوٹے بڑے جزائر ہیں لیکن ساریما کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ایسٹونین لوگ اس جزیرے کی خوبصورتی کے خاصے متعرف ہیں۔ اب اللہ میاں نے ایسی طبعیت عطا کی ہے بس چلے تو گھر بار تیاگ کر تمام عمرنئی جگہیں دیکھنے میں گزار دیں اور پھر ایسٹونیا میں ویسے بھی نہ کوئی پُوچھ نا پاچھ ، نہ ذمہ داری نہ فرض، بس پینٹ شرٹ پہنی گلے میں کیمرہ لٹکایا اور سفر کو تیار۔

August 4, 2014

ایک جہاز جو اڑنے میں تاخیر کا شکار ہو گیا۔

Aik jahaz jo urny main takheer ka shikar ho gia


میں تالن Tallinn سےخوشی خوشی گھر واپسی کے لیے جہاز میں بیٹھا اور پہلی منزل فرینکفرٹ ٖFrankfurt ہوائی اڈا جو کہ میرے ناپسندیدہ ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جانے کی تیاری کرنے لگا لیکن خوشی یہ تھی کہ وہاں سات گھنٹے سے زیادہ رکنا تھا اور میں کافی دنوں سے فریکنفرٹ کے چڑیا گھر جانے کی کوشش میں تھا کہ سنا تھا وہ تمام یورپ میں واحد چڑیا گھر ہے جہاں نیوزی لینڈ New Zealand کا قومی پرندہ کیوی Kiwi پایا جاتا ہے۔

July 25, 2014

اگلی منزل لزبن

Agli manzil Lisbon


میری پروفیسر کا حکم ہوا کہ ایسا کرو کہ دوسرا سپر وائزر Supervisor ڈھونڈو جو کہ آپ کے ہی شعبےکا ہو تاکہ آپ کو پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے آسانی ہو۔ میں نے پروفیسر ڈھونڈنا شروع کیے اور ان کی تلاش میں دو چیزیں مد نظر رکھیں کہ ایک تو وہ برطانیہ England یا امریکہ America کے نہ ہوں دوسرا ایسٹونیا Estonia کے اور ایسٹونیا کے قریبی ممالک کے ساتھ کے نہ ہوں اور آخر میں نے ایک فہرست جس میں آسٹریلیا Australia، پرتگالPortugal، ترکی Turkey اور فرانس France کے پروفیسر شامل تھے اپنی سپر وائزر کو تھما دی۔ اس نے کانٹ چھانٹ کر ایک پرتگالی پروفیسر کو چنا اور میں نے دل میں سوچا پی ایچ ڈی اپنی جگہ پرتگال کا چکر پکا ہو گیا۔


July 7, 2014

نیا قانون

Niya Qanon


خبر:پاکستان کی قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے نئے قانون ’پروٹیکشن آف پاکستان بل 2014 ‘ کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بل دو سال کے لیے نافذ العمل ہو گا
مطابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل کے تحت گریڈ 15 سے کم کے افسر کو جدولی جرائم میں ملوث کسی مشکوک شخص پرگولی چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا اور کسی کی موت واقع ہونے کی صورت میں اس کی عدالتی تحقیقات لازمی قرار دی گئی ہیں۔
جدولی جرائم
خود کش حملے اور آتش زنی
جوہری تنصیبات، فوجی چوکیوں، اور دفاعی تنصیبات پر حملے
محکمۂ صحت کے ارکان پر حملے
ڈیموں اور بجلی کے نظام اور مواصلاتی نظام پر حملے
یرغمال بنانے یا یرغمال کرنے کی کوشش
سائبر کرائم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق

June 29, 2014

واسا اور آسا پاسا

Vaasa aur aasa paasa


ایسٹونیاEstonia میں جس پاکستانی سے ملیں اس نے ہر تیسرے جملے کے بعد گھوما پھرا کہ یہ ضرور پوچھ لینا ہے کہ کبھی ہیلسنکی Helsinki گئے ہو؟ اب اللہ جانے پاکستانیوں کو فن لینڈ Finland کے دارالحکومت ہیلسنکی سے اتنا پیار کیوں ہے کہ ہر آئے گئے کو ہیلسنکی کی تاکید کرتے ہیں اور مجھے سے بھی جب چارپانچ لوگوں نے پوچھ لیا تو میں بھی غصہ کھا کر ہیلسنکی کی بحری جہاز کے ذریعے ٹکٹ بک کرا بیٹھا۔ لیکن ان دنوں میں اٹلی Italy تھا اور وہیں پر ہی ای میل کے ذریعے بحری جہاز کی کمپنی لنڈالائن Linda Line نے پیغام بھیج دیا تکلف نہ کریں آنے کا ہم نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلسنکی- تالن بحری لائن بند کر دی ہے۔ جان چھوٹی ہم نے اڑتیس یورو واپس وصول کیے اور ڈبل روٹی ہمراہ دودھ کے اڑا کر عیاشی کر لی۔ اور ساتھ ہی دل کو تسلی دی کہ ویسے ہی دن چھوٹے ہیں اصل مزہ تو گرمیوں میں جانے میں ہے جب رات ہی نہیں ہوتی اور بندہ سارا دن خواری کے بعد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سارا دن خوار ہوئے ہیں کہ دن ہی اتنا بڑا ہے۔

June 16, 2014

جاپان اور جاپانی

Japan aur Japani


پتہ نہیں یہ الٹے پلٹے خیالات میرے ذہن میں کون ڈالتا ہے کہ میں نے ایک ویب سائیٹ پر دنیا بھر میں ہونی والی کانفرنسوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ اور میری نظر انتخاب جاپان پر جا ٹھہری۔ میں نے سوچا اگر ادھر مقالہ قبول ہو جائے تو آگے میزبان بھی مل جائے گا اور جاپان کی سیر بھی ہوجائے گی۔ اگلے بھی شاید میری ہی انتظار بیٹھے تھے کہ انہوں نے مقالہ قبول کر کے اس کو پڑھنے کی دعوت دے ڈالی۔

June 9, 2014

گریس اور گریک کے بیچ

Greece aur Greek ke beech


آپ کا ٹوئیٹر Twitter کے بارے کیا خیال ہے؟
بڑا نیک خیال ہے۔
کیا خیال ہے یہ ٹیکنالوجی کی بھرمار میں چل پائے گا؟
کیوں نہیں ابھی سوشل میڈیا Social Media کا متبادل کوئی نہیں آیا تو ابھی تو اس نے چلنا ہے۔
 تو میں اس کے شئیر Share اپنے پاس رکھوں؟
ضرور ضرور یہ گرا بھی عارضی ہوگا۔
چائینا موبائل China Mobile بارے کیا خیال ہے؟
بہترین ہے۔ اور اس نے کہیں نہیں جانا۔
اچھا آپ کا بہت شکریہ ۔ آپ نے میری مشکل حل کر دی۔


June 2, 2014

لیتھوانیا جانا

Lithuania jana


ڈاکٹر صاحب جو نام کے اور کام کے ڈاکٹر نہیں بلکہ سند یافتہ استادی والے ڈاکٹر ہیں نے فرمایا ولنیوس Vilnius چلنا ہے؟
کون کون جا رہا ہے؟
دو جرمن لڑکیاں ہوں گی ایک آپ اور ایک میں۔
میں فوراً سے پیشتر راضی ہو گیا۔
دو روز بعد فون پر اطلاع ملی لڑکیاں نہیں جا رہی بس آپ اور میں ہی ہوں گے تو کیا ہوٹل اور بس کی ٹکٹ لے لوں۔ مروت بڑی واہیات شے ہے اور میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر دی اور ہم نو گھنٹے کے سفر پر لیتھوانیا Lithuania کے دارالحکومت ولنیوس کے لیے روانہ ہو گئے۔

May 26, 2014

آغاز سفر

Aaghaz e safar

سفر وسیلہ ظفر ہے ۔ بہت عرصہ پہلے یہ بات سنی تھی لیکن سمجھ تب آئی جب ایسوں کو دیکھا جن کو یہاں کھانے کو مشکل سے میسر تھا اور باہر جا کر ان کے دن پھر گئے۔ 

لیکن ہماری قوم میں ایک اور عجیب چیز ہے۔ ہم ابھی شادی نہیں کرتے اور بچوں کے مستقبل کی فکر میں جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شادی کے بعد تو گویا ہمیں دورہ پڑ جاتا ہے۔ اچھا گھر ہو، اچھا سکول ہو، اچھی تعلیم ہو، اچھا جہیز ہو، اچھا فکنشن ہو وغیرہ وغیرہ۔ ہم دوسروں کے سامنے ایسے ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہمارے پاس قارون کے خزانوں سے بڑھ کر خزانے ہیں چاہے اس کے لیے رات کو ہمیں بھوکا ہی کیوں نہ سونا پڑے۔

May 19, 2014

المدد، الامان، الحفیظ

Almadad, Alaman, Alhafeez



جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں ان کو تو احساس نہیں ہوتا کہ وہ روز ہی اسی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں لیکن جب میرے جیسے خود ساختہ تہذیب دار بندے پاکستان آتے ہیں اور بات بے بات شکریہ ، مہربانی ، برا نہ مانیں کی رٹ لگا کر عزت افزائی کراتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ عملی تو دور کی بات ہم زبانی اخلاق کو بھی تین حرف تین بار بھیج کر طلاق دے چکے ہیں۔

چلو ٹیکنالوجی تو انگریزوں نے بنائی حالانکہ ان سب کی بنیادیں ہمارے مسلمان ہی دے گئے لیکن ایمان، اخلاق اور انسانیت تو ہمارے مذہب نے سکھایا تھا اور کس خوشی میں ہم نے بھلا دیا اور کس سپرپاور کی مخالفت میں ہم نے اپنے بچوں کو یہ ویکسین پلانا چھوڑ دی۔

May 12, 2014

ٹماٹر کی دکان دکھا رہی تھی

Tamater ki dokan dikha rahi thee

خبر: برطانوی شہر مڈلینڈز میں ایک شخص نے طوائف کے ساتھ گاڑی میں پکڑے جانے پر پولیس کو بتایا کہ ان کی گاڑی میں بیٹھی خاتون انہیں ٹماٹر کی دکان دکھا رہی تھی

تفصیل یوں ہے کہ ہمارے ایک پاکستانی بھائی گاڑی میں پھر رہے تھے تو پولیس نے ان کے ساتھ بیٹھی خاتون کو طوائف کے طور پر پہچان کر انہیں روکا تو انہوں نے جواب دیا کہ دراصل وہ تو اس خاتون کو اس لیے ساتھ لیے پھر رہے ہیں کہ وہ ان کو ٹماٹر کی دکان کا راستہ دکھا رہی تھی۔

نیٹ ورک بلاگ

دیکھا گیا