May 21, 2015

کہا کینیڈا کو جاؤ۔ کہا ویزا آپ دیں گے؟



ویزوں کے متعلق میرا ایمان ہے کہ ویزا سیکشن میں ویزا جاری کرنے والا شخص "اکڑ بکڑ بمبے بو" کے مترادف اسی کی مادری زبان میں خشوع و خضوع سے پڑھ کر جس درخواست پر سو آتا ہے اس کو ویزا جاری کر دیتا ہے اور باقیوں کو یوں ہی الٹے پلٹے اعتراضات لگا کر لوٹا دیتا ہے کہ اگر جن کو ویزا ملتا ہے اور جن کو نہیں ملتا سے پوچھیں تو کچھ بھی عقل میں نہیں پڑتا تاہم اگر کوئی بات عقل میں آتی ہے تو وہ یہ کہ یا تو ان لوگوں کو ویزا مل جاتے ہے جنکے اکاؤنٹ پیسوں سے لدے پھدے ہوتے ہیں یا جن کے بارے پکا یقین ہوتا ہے کہ یہ ایک بار چلے گئے تو واپس نہیں آنا اور آپ کے اور میرے جیسے جو جانے کی بجائے واپسی پر توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں ٹکا سا جواب لیے اوقات میں واپس آ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

May 11, 2015

غیر اخلاقی باتیں، اخلاقی نتائج


اسکولوں میں اردو بے اور انگریزی بی کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اخلاقی نتیجہ یعنی مورال آف سٹوری Moral of Story ایسا دماغ پر سوار ہوا کہ ہم کہانی بعد میں یاد کیا کرتے تھے اوراخلاقی نتیجہ پہلے۔ لہذا اب جو بھی بات ہو، جو بھی واقعہ ہو میں اس کا اخلاقی و غیر اخلاقی نتیجہ دیکھنے کا عادی ہو گیا ہوں اور ویسے بھی اس اردو بلاگ کا نام ہی "اس طرف سے" ہے کہ دنیا کو اس طرف سے دیکھیں جہاں سے آپ کو اس سے حاصل کردہ سبق دیکھنے کو مل سکیں تو آج کے بلاگ سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کیسے آپ ہر ایک واقعے سے ہر ایک بات سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اس ساری بات کا اخلاقی نتیجہ نکلا، ہمت مرداں مدد خدا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

May 1, 2015

خواتین جگاؤ ملک بچاؤ


ہماری خواتین بھی ہمارے عوام کی طرح ہیں یا ہمارے عوام ہماری خواتین پر گئے ہیں کہ سارا سال حکمرانوں اور 
سیاستدانوں کو گالیاں نکالیں گےمگر الیکشن کے آنے پر دوبارہ انہی کو ووٹ ڈال دیں گے۔ ایسے ہی ہماری خواتین خواہ کتنی ہی الو کے پٹھے قسم کے صفحے فیس بک پر لائک کر تی رہیں لیکن شادی کے خواب وہ کسی الو کے پٹھے کے شہزادے کے ہی دیکھتی ہیں۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 21, 2015

ایک بلاگ کتے بلوں کے لیے



اگر آپ نام پڑھ کر یہ سوچ رہے ہیں شاید یہ دو ٹانگوں والے کتے بلوں کے لیے لکھا گیاہے تو آپ کی سوچ غلط ہے یہ بلاگ جانوروں کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔

 نہیں یاد کب جانوروں سے دلچسپی ہوئی لیکن امید واثق ہے جب انسانوں نے ہمیں گھاس ڈالنا چھوڑ دیا تو ہم نے خود گھاس خوروں سے دوستی کر لی۔ جب چھوٹا تو والد صاحب ایک کتاب لے آئے تھے جس میں پرندوں کی رنگ برنگ تصاویر تھیں اور ان کے بارے معلومات تھی۔ لیکن وہ انگریزی میں تھی اور انگریزی تو اب تک کسی نک چڑھی لڑکی کی طرح ہمیں سہلاتی رہتی ہے ہے تب کیا لفٹانا تھا۔ لیکن پھر وہ کتاب کہیں کھو گئی تاہم چڑیا گھر جانے کا شوق اس کتاب کے آنے اور کھونے سے بھی پہلے کا تھا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 11, 2015

جرمن ونگز کے ہوا باز کی ڈیپریشن کی ممکنہ وجوہات



بات تو افسوس کی ہے کہ ڈیڑھ سو بندے مر گئے لیکن کیا کریں ہم پاکستانیوں کی حس مزاح بھی ایسی ہو گئی ہے بڑی بڑی 
باتیں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں اور چھوٹی موٹی باتوں پر سر پھٹول ، گردن قبول اور گفتگو فضول ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر جرمن ونگز کا ہوا باز مسلمان ہوتا تو ستر بیماریوں کا ایک علاج کے مصداق ہم سمجھ لیتے کہ وہ دہشت گرد ہے اور کوئی نہ کوئی جماعت نہ صرف اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لیتی اور ثبوت بھی فراہم کر دیتی کہ آج کل ویسے بھی دھندا مندا ہے اس لیے سارے تیار بیٹھے ہیں کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر سے ہے۔ نتیجے میں یورپی تحقیقات کے تکلف سے بچ جاتےکہ وہ مرتے مرتے اپنا شناختی کارڈ فریم کرا کر کسی اونچی جا لٹکا کر جاتا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت تحقیقاتی ایجنسیوں کو کام آجائے اور ہم بلاگ لکھنے کی تکلیف سے بچ جاتے کہ اب بندہ نہ دہشت گردی کی حمایت کر سکتا ہے نہ مذمت کر سکتا ہے بس جو چاہے ان کا حسن کرشمہ کپور کرے
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 1, 2015

لزبن جیسا کوئی نہیں


 یوں تو پیرس سے واپسی پر جیب اور عقل دونوں ٹھکانے لگ چکی تھیں لیکن وہ دل ہی کیا جو انسانوں والے کام کرنے پر 
مائل ہو جائے۔ لزبن میں میرا آخری ہفتہ تھا اور روز وکسVicks، اور آئیوڈیکس Iodex لگا لگا کر ٹانگیں چلنے کے قابل ہو گئی تھیں تو سوچا جب کا آیا ہوں پروفسیر صاحب نے کہا ہے کہ سِنترا Sintra دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور تو ان دنوں ہم خود بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے تو سوچا خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے نمونے دو۔ اور بس ایک دن گوگل صاحب سے معلومات لیں اور پہنچ گئے ریلوے اسٹیشن کہ ایک جھکڑ ہے مرے پاؤں میں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 21, 2015

پیرس پیمائی



ایک بوڑھا شخص بہاولپور سے بس میں سوار ہوا اور اس نے قصبہ چنی گوٹھ جانا تھا تو جیسے کنڈیکٹروں کی عادت ہوتی ہے اس کو جھوٹ موٹ کہہ کہ کر بس پر چڑھا لیا کہ سیٹوں کے درمیان موڑھے نہیں رکھیں گے اور بس جگہ جگہ نہیں رکے گی بلکہ سیدھا چنی گوٹھ ہی رکے گی۔ لیکن ڈرائیور تو تب کے بدنام ہیں جب پولیس اور واپڈا بھی نیک نام ہوا کرتی تھی تو ایسے تو بدنام نہیں تھے چنانچہ تمام راستہ ہر بندہ دیکھ کر بس رکتی آئی اور موڑھے تو موڑھے چھت پر بھی سواریاں سوار کردی گئیں۔ راستے میں کنڈیکڑ نے اسی بوڑھے سے پوچھا
" چاچا حال سُنڑا ول" (چاچا! کیا حال ہے کیسا ہے سفر؟)
تواس نے جواب دیا "پتر! اے تاں چنی گوٹھ آسی تے گالیاں تھیسن ( بیٹا چنی گوٹھ آئے گا تو باتیں ہوں گی)۔ تو ایسے ہی ان تمام لوگوں سے جنہوں نے مجھے کہا تھا کہ پیرس میں کالے بہت ہیں، لٹنے کا خطرہ ہے، امن امان کی حالت مخدوش ہے ان تمام لوگوں سے عرض ہے کہ "چنی گوٹھ آسی تاں گالیاں تھسین۔"

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 11, 2015

ادلی کی بدلی ۔ مکمل کہانی (ڈاؤنلوڈ لنک)



جب ان ناتواں کندھوں پر اس سائسنی ناول کا دیپاچہ لکھنے کی ذمہ داری عائد کی گئی تو ایک لمحے کو تو میں گڑ بڑا گیا کہ کہیں سہواً یا انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی حرکت نہ سرزد ہو جائے جو کہ اس قلم کے تقدس اور رائے کی امانت کو گہنا دے۔ اہل قلم صدیوں سے حق لکھتے آئے ہیں اور لکھتے آئیں گے اور انہی کے دم سے معاشروں اور معاشرت میں اہل صفا اور اہل ایمان کا نام قائم ہے وگرنہ تو قیامت بس دہلیز پر کھڑی سمجھیے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 1, 2015

ایجادات اور ان کا حقیقی ماخد - ایک مکمل غیر سائنسی بلاگ




آج جس کو دیکھیں مغرب کی ٹکنالوجی کی بات کرتا ہے۔ مغرب خود بھی نازاں ہے کہ ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور ہم 
بےچارے مشرقی اور ترقی پذیر جو پذیرائی ہونے میں نہیں آرہی کے شکار ممالک ان سے اور ان کی ترقی سے بہت متاثر ہیں اور دن رات انہی کی ٹیکنالوجی کے گن گاتے ہیں حتی کہ کوئی اگر مغرب مخالف لکھتا ہے تو انہی کی بنائے کمپیوٹرز پر انہی کے قلم سے انہی کے چھاپہ خانے سے۔ تو ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اور دل کے اطمینان کے خاطر یہ تحقیق حاضر ہے کہ مغرب نے دراصل ہماری سوچ اور چیزوں پر ہاتھ صاف کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

February 20, 2015

سہیلی بوجھ پہیلی




جب چھوٹے تھے تو پوچھا کرتے تھے "پہیلی بوجھ سہیلی"۔ لیکن اب کوئی سہیلی نہ رہی اور سہیلی ویسے بھی گرل فرینڈ Girl friend کے زمرے میں آتی ہے اور ہم اس جھمیلے سے اتنے ہی دور واقع ہوئے ہیں جتنے آج کل کے شریف شرافت سے،  دوسرا سہیلی کا مذکر دوست کسی صورت مناسب نہیں لگتا اورہماری اپنی پخ 'سہیلا' عجیب اور بے وزن سا لگتا ہےاس لیے ہم کہیں گے "بوجھو تو جانیں" پورا اس لیے نہیں کہا کہ ہم تم کو بوجھنے پر بھی نہیں مانیں گے کہ بوجھ لیا تو اپنے زنگ آلود دماغ کو تھوڑا چلانے کی کوشش کی ہمارا کیا بھلا کیا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad