March 21, 2015

پیرس پیمائی

Paris Pemai


ایک بوڑھا شخص بہاولپور سے بس میں سوار ہوا اور اس نے قصبہ چنی گوٹھ جانا تھا تو جیسے کنڈیکٹروں کی عادت ہوتی ہے اس کو جھوٹ موٹ کہہ کہ کر بس پر چڑھا لیا کہ سیٹوں کے درمیان موڑھے نہیں رکھیں گے اور بس جگہ جگہ نہیں رکے گی بلکہ سیدھا چنی گوٹھ ہی رکے گی۔ لیکن ڈرائیور تو تب کے بدنام ہیں جب پولیس اور واپڈا بھی نیک نام ہوا کرتی تھی تو ایسے تو بدنام نہیں تھے چنانچہ تمام راستہ ہر بندہ دیکھ کر بس رکتی آئی اور موڑھے تو موڑھے چھت پر بھی سواریاں سوار کردی گئیں۔ راستے میں کنڈیکڑ نے اسی بوڑھے سے پوچھا
" چاچا حال سُنڑا ول" (چاچا! کیا حال ہے کیسا ہے سفر؟)
تواس نے جواب دیا "پتر! اے تاں چنی گوٹھ آسی تے گالیاں تھیسن ( بیٹا چنی گوٹھ آئے گا تو باتیں ہوں گی)۔ تو ایسے ہی ان تمام لوگوں سے جنہوں نے مجھے کہا تھا کہ پیرس میں کالے بہت ہیں، لٹنے کا خطرہ ہے، امن امان کی حالت مخدوش ہے ان تمام لوگوں سے عرض ہے کہ "چنی گوٹھ آسی تاں گالیاں تھسین۔"

March 11, 2015

ادلی کی بدلی ۔ مکمل کہانی (ڈاؤنلوڈ لنک)

adli ki badli- mukmal kahani with downloading links


جب ان ناتواں کندھوں پر اس سائسنی ناول کا دیپاچہ لکھنے کی ذمہ داری عائد کی گئی تو ایک لمحے کو تو میں گڑ بڑا گیا کہ کہیں سہواً یا انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی حرکت نہ سرزد ہو جائے جو کہ اس قلم کے تقدس اور رائے کی امانت کو گہنا دے۔ اہل قلم صدیوں سے حق لکھتے آئے ہیں اور لکھتے آئیں گے اور انہی کے دم سے معاشروں اور معاشرت میں اہل صفا اور اہل ایمان کا نام قائم ہے وگرنہ تو قیامت بس دہلیز پر کھڑی سمجھیے۔

March 1, 2015

ایجادات اور ان کا حقیقی ماخد - ایک مکمل غیر سائنسی بلاگ

Ejadat aur un ka makhaz- Aik mukamal ghiar scienci blog



آج جس کو دیکھیں مغرب کی ٹکنالوجی کی بات کرتا ہے۔ مغرب خود بھی نازاں ہے کہ ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور ہم 
بےچارے مشرقی اور ترقی پذیر جو پذیرائی ہونے میں نہیں آرہی کے شکار ممالک ان سے اور ان کی ترقی سے بہت متاثر ہیں اور دن رات انہی کی ٹیکنالوجی کے گن گاتے ہیں حتی کہ کوئی اگر مغرب مخالف لکھتا ہے تو انہی کی بنائے کمپیوٹرز پر انہی کے قلم سے انہی کے چھاپہ خانے سے۔ تو ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اور دل کے اطمینان کے خاطر یہ تحقیق حاضر ہے کہ مغرب نے دراصل ہماری سوچ اور چیزوں پر ہاتھ صاف کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

February 20, 2015

سہیلی بوجھ پہیلی

Saheli boojh paheli



جب چھوٹے تھے تو پوچھا کرتے تھے "پہیلی بوجھ سہیلی"۔ لیکن اب کوئی سہیلی نہ رہی اور سہیلی ویسے بھی گرل فرینڈ Girl friend کے زمرے میں آتی ہے اور ہم اس جھمیلے سے اتنے ہی دور واقع ہوئے ہیں جتنے آج کل کے شریف شرافت سے،  دوسرا سہیلی کا مذکر دوست کسی صورت مناسب نہیں لگتا اورہماری اپنی پخ 'سہیلا' عجیب اور بے وزن سا لگتا ہےاس لیے ہم کہیں گے "بوجھو تو جانیں" پورا اس لیے نہیں کہا کہ ہم تم کو بوجھنے پر بھی نہیں مانیں گے کہ بوجھ لیا تو اپنے زنگ آلود دماغ کو تھوڑا چلانے کی کوشش کی ہمارا کیا بھلا کیا۔

February 11, 2015

فلورنس میں نائیٹ اینگیل

Florence main nightingale


 پتہ نہیں کیوں جب میں فلورنس (Florence) ( Italian: Firenze) کا نام سنا کرتا تو فلورنس نائیٹ اینگیل  Florence Nightingale دماغ میں گونجتا اور ایک عورت ابھرتی جس نے کندھے پر بلبل بٹھایا ہوتا اور اس زمانے میں ہمارا بلبل سے واحد تعلق بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی تک محدود تھا لہذا دماغی پرواز کو بھی بلبل کا بچہ میں نے اڑایا واپس نہ آیا سے بچانے کے لیے کسی اور طرف منتقل کر دیتا۔

January 29, 2015

پیسا مینار پر بندہ خوار

Pisa minar per banda khuwar



اٹلی میں یوں تو ہر شہر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ کہیں تاریخ ہے کہیں خوبصورتی ہے کہیں عجائبات عالم ہیں تو کہیں قدرتی نظارے کہیں ماکولات اور کہیں نامعقولیات۔ لیکن اگر اس فہرست کو مختصر کرنا ہو تو تین نام ذہن میں آتے ہیں روم، وینس اور پیسا (پِزا :اطالوی)۔ اس کے بعد میلان، فلورنس (فرینزے:اطالوی) نیپلز (ناپولی :اطالوی) اور سسلی کے نام آتے ہیں۔ اب وینس ہم کب کے گھوم چکے تھے اور روم جانے کا امکان نظر نہیں آ رہا تھا تو سوچا کیوں نہ اس بار پیسا مینار اور فلورنس کی زیارت کی جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے میزبان پادووا میں رہتے ہیں جو کہ بالائی اٹلی میں ہے یہ پیسا اور فلورنس وسطی اٹلی میں پائے جاتے ہیں جو کہ نقشے پر بھلے ہی انگلی کی ایک پور جتنے دور ہوں لیکن اصل میں وہ پادووا سے چھ گھنٹے کی مسافت پر ہیں اور ہمارے میزبان ایسے ہیں کہ پانچ بار بلا کر وعدہ کر کے چار گھنٹے دور سلوینیا نہیں لے گئے ۔

January 19, 2015

سیلفی - ایلفی

Selfie- Elfie

لوگ پوچھتے ہیں اتنی جگہیں گھومے ، اتنی تصاویر اتاریں آپ کی خود کی تصویر کہیں نہیں نظر آئی۔ یوں تو میں کہتا ہوں کہ کبھی کوئی اور بھی دکھا میری تصویر میں کیا؟ جن خوش نصیبوں کو اپنی کھینچی تصاویر کا دیدار کرایا ان کا پہلا سوال تھا کہ کیا اس شہر میں کوئی بندہ بشر نہیں بستا تھا؟ اب کیا بتاؤں عمارات کی تصاویر کھینچتے وقت مجھے سب سے زیادہ شکایت درختوں سے ہوتی ہے جو عین عمارت کے سامنے منہ اٹھا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور سارا منظر برباد کر دیتے ہیں جبکہ ابھی تو مجھے درخت پسند ہیں خود سوچیں بندوں کے بارے کیا رائے ہو گی جو کہ مجھے پسند بھی نہیں۔

January 4, 2015

پانچویں سالگرہ

Paanchvien Saalgirah



آج مہشور زمانہ اردو بلاگ یعنی یہی بیچارہ بلاگ "اس طرف سے" پانچ سال کا ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے گویا تمام عمر سے بلاگ لکھتا آیا ہوں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ بلاگ لکھنے سے دل بھرتا جارہا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بلاگ میری دوہری شخصیت کا عکاس ہے کہ اپنی کہانیوں کی طرح اندر ہی اندر میں سڑا بسا ہوں لیکن باہر میں نے خوش اخلاقی اور مزاح پسند ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے جس کی ایک شکل میرا بلاگ بھی ہے اور چونکہ ہر بندے نے اپنی اصلیت کی طرف لوٹنا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ یہ ہنسی مذاق لکھنا چھوٹتا جا رہا ہے جبکہ اسی سال میں جس دوران میں نے پچاس کے لگ بھگ بلاگ لکھے ہیں ستر کہانیاں جن میں سے کچھ چند سطری، کچھ کے مرکزی خیال، کچھ ادھوری، کچھ  پوری لکھ چھوڑی ہیں۔ لیکن اتنے سفر کرتا ہوں اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ کسی دن ملائیشیا جائے بغیر بھی ٹرجعون ہونے کی نوبت آ سکتی ہے کہ ملائیشیا والوں نے ٹھیکہ تھوڑی لیا ہے جہاز تو کہیں بھی گر سکتا ہے تو اس صورت میں میرا کمپیوٹر چلا کر اس میں ڈی ڈرائیو میں جا کر الا بلا کے فولڈر میں ڈاکیومنٹ پر کلک کر کے مائی ڈاکیومنٹ میں جا کر 22 کھول کر اردو پر کلک کر کے شارٹ اسٹوریز پر کلک کر نامکمل کے فولڈر میں جتنی کہانیاں ہوں ان سب کو آن لائن شائع کردیں تاکہ لوگ پڑھ کر مجھے حتی الوسیع برا بھلا کہہ سکیں اور کچھ بخشش کا سامان ہو۔

December 29, 2014

دہشت گردی پر قابو- ہماری درفطنیاں

dehshat gerdi per qabu- hmari durfnian

ہم سمجھتے رہے ہیں کہ شاید صرف ہم ہی بونگیاں مارتے ہیں اور ہم ہی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں لیکن اب پتہ لگا ہے کہ حکومتی اراکین بھی مجھ سے بلاگر سے کسی طور کم نہیں اور ان کی طرف جو احمقوں کی جنت واقع ہے وہ ہماری جنت سے زیادہ خیالی و روشن خیالی ہے۔ اس سے پہلے آپ جرابیں پہننے پر پابندی کی تجویز سن چکے ہیں لیکن تندور کی روٹیوں سے دہشت گردی کنٹرول کرنے کا خیال تو ایک لمحے کو ہمیں بھی شرمندہ کرگیا کہ ہم نے بلاگنگ میں پانچ سال ضائع ہی کیے لہذا اب معاملہ عزت کا ہے اس لیے ہم ایسی تجاویز لائے ہیں جن سے یہ ثابت ہوگا کہ مکمل نہیں تو آدھا پونا وزیر بننے کی اہلیت ہم میں بھی ہے۔ 

December 23, 2014

برسلزو برسلز ائیر لائن۔ یک نہ شد دو شد

Brussels and Brussels airlines- Yak na shud do shud



برسلز Brussels جانے کی خواہش دل میں فقط اس لیے تھی کہ یہ یورپی یونین کا دارالحکومت تھا۔ اور جیسے آپ پاکستان میں رہیں اور اسلام آباد نہ دیکھیں ایسے ہی برسلز کا تھا کہ کافی عرصہ سے یورپی یونین میں خواری کر رہے تھے لیکن ہنوز برسلز دور است۔ آخر میں نے اس طریقہ نکالا کہ ایک کورس جو ایک آرگنائزیشن کے تحت منعقد ہو رہا تھا میں جانے کے لیے سکالر شپ کی درخواست دے دی کہ چلو سرکاری پیسے پر سرکار کو دیکھ آئیں وگرنہ ہمیں کورس پڑھنے سے ایسے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ ہم نے یہ دیکھ کر کورس چنا تھا کہ ایسا کورس ہو جس کے اختتام پر امتحان نہ لیا جائے بلکہ حاضری کی بنا پر ہی پاس کردیں۔

December 15, 2014

دیکھنا فٹ بال کا میچ لزبن میں

dekhna football ka match Lisbon main

سفر نامہ میڈرڈ اور ریال میڈرڈ  بارے پڑھ کر آپ ہماری فٹ بال سے محبت بارے تو آپ آگاہ ہی ہوں گے۔ اب  ایسا ہوا کہ اللہ نے کچھ ایسا دماغ میں ڈالا کہ پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے موضوع بھی فٹ بال کو چنا یعنی کی پڑھائی کہ پڑھائی اور مزے کا مزہ۔ ہر پاکستانی کی طرح یوں تو کرکٹ ہی میرا پہلا پیار تھا لیکن جب محبوب ہی آوارہ نکلے تو بندہ خاک محبت کرے تو آہستہ آہستہ فٹ بال کا ہو کر رہ گیا۔

December 8, 2014

ادلی کی بدلی - سات ساتھ

adli ki badli- sat sath



قسط نمبر سات

اماں کہتی تھیں کہ جہاں جہاں والدین کی مار پڑتی ہے وہ جگہ دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو جاتی ہے اور یہی محاورہ استاد صاحب بھی فرمایا کرتے تھے تو اسی روشنی میں بریف کیس یعنی زوجہ مقبوضہ شوہروں کی بیویوں کے کہے پر آنکھیں بند کرکے چلنا بھی سمجھ آتا ہے کہ جہاں دو والدین کو چھوٹ ہے تو تیسرے والدین یعنی ساس سسر کو استشنیٰ کیوں اور ان کی مار بھی سہہ کر بندہ جنت میں جا سکتا ہے تاہم یہاں پر اس بات کا ذکر اس لیے نکل آیا ہے کہ جب جب ہمیں چوٹ لگتی تھی تو اماں ایسے ہی دل کے بہلانے کو کہہ دیتی تھیں بیٹا جہاں چوٹ لگتی ہے اس جگہ کے لیے بھی جنت واجب ہو جاتی ہے تو میں روتے ہوئے بھی سوچا کرتا تھا کہ بھائی اماں اور استادوں کی مار کھا کھا کر جسم ایک چھوڑ ہزار بار جہنم کی آگ سے مکتی پا چکا ہے اب اور کتنی نجات ملے گی تو جب ہوش آیا اور سر میں ٹیسیں اٹھیں تو یہی خیال جاگا کہ جہنم سے نجات کے چکر میں یہیں پر ہی جسم ضائع ہو جائے گا۔

December 1, 2014

ادلی کی بدلی - چھ- چھکا

Adli ki badli- cheh chaka


قسط نمبر 6
اس روز پہلی بار مجھے یہ بدن کی ادلی بدلی کا فائدہ محسوس ہوا کہ کم از کم یہ داغ لے کر میں نہیں جینا چاہتا تھا کہ اس نے اتنا بڑا ہو کر پیشاب بیچ میں کردیا تھا۔ آپ ہی بتائیں جب جب امی ڈانٹتی چھوٹے بھائی معنی خیز اشارے کرتے، جب جب میری توجہ کھانے پر ہوتی میرے بھائی زیر لب ہنس رہے ہوتے کہ دیکھیں آج بند کہاں ٹوٹے۔ جب کبھی میرے کپڑوں پر پانی بھی گر جاتا تو بھی ہر ایک نے پوچھنا تھا بھائی پھر؟ حالانکہ پھر میں کچھ بھی نہیں لیکن کرنے والا اور دیکھنے والا بخوبی جانتا ہے۔ جب جب میرے بھائی مجھ سے اردو ب میں مدد کے سلسلے میں کیے کرائے پر پانی پھیرنا کا اصل مطلب سمجھنے آتے تب تب میں نے انہیں سرد مہری سے سمجھانا تھا اور آئندہ جب بھی وہ کچھ پڑھنے آتے ان کو انکار کرنا پڑتا کہ منحوس اردو ب کے علاوہ فزکس کیمسٹری کی بھی بے عزتی کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔

November 24, 2014

ادلی کی بدلی- پانچ کی کھینچ کھانچ

adli ki badli - panch ki khainch khanch



اس سے پہلے پڑھینے کے یہاں کلک کریں

جتنی دیر یہ سوتا ہے اتنی دیر تو اصحاب کہف بھی نہیں سوئے ہوں گے۔ باہر سے آواز آئی اور میں دیکھے بغیر ، پوچھے بغیر شرطیہ کہہ سکتا تھا کہ یہ آج کے والد صاحب ہی ہوں گے۔ مجھے فقیر ابا کا طمانچہ یاد آیا اور میں خود سے یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا اور نہیں بھی کھوتا تو جو پاتا ہے وہ کسی کو دکھانے کے قابل نہیں ہوتا لہذا اٹھ ہی جائیں تو اچھا ہے۔ ویسے بھی اب تک میں ہر رنگ میں جلنے کےلیے تیار ہو چکا تھا یہاں تک کہ چار ٹانگوں والا گدھا بن کر بھی جاگتا تو حیرانی نہ ہوتی حالانکہ دس منٹی صاحب یقین دہانی کرا چکے تھے کہ کم از کم گدھے بنے بھی تو دو ٹانگوں والے ہی بنیں گے یعنی انسان کے جامے میں ہی رہیں گے لیکن انسان بڑی بے اعتباری شے ہے کوئی پتہ نہیں کب جامے اور پاجامے سے باہر آجائے۔

November 17, 2014

ادلی کی بدلی -چوکا

Adli ki badli- choka

زندگی میں پہلی بار سمجھ آیا مولوی صاحب کیوں کہا کرتے تھے دنیا دھوکے کا گھر ہے۔ اب تو کسی پر اعتبار نہ تھا پتہ نہیں یہ جو ماں تھی اصل میں کون تھی یا تھا یا یہ میرا ابا اصل میں کوئی بادشاہ تھا یا کوئی تخریب کار خود کش دھماکہ کرنے والا تھا۔ سب کچھ ایسا گڈمڈ تھا کہ گویا میری زندگی نہ ہوئی حکومت پاکستان ہو گئی۔ کوئی نہیں آج بھی بارہ بج جائیں گے بندے ہمت کر۔ مجھے اپنے کل کے عزم کہ آج باہر نکلنا ہے گریبوں کی مدد کینی ہے وغیرہ وغیرہ اپنے جسم کی طرح بدلتے محسوس ہوئے اور غریبوں کی کیا مدد کرتا کہ مجھے خود مدد کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ ماں کی آواز آئی فرح آ گئی۔ اب یہ فرح کس مصیبت کا نام تھا۔ اتنی دیر میں ایک اور لڑکی آئی اور بولی ابھی تک تو ایسے ہی بیٹھی تیار نہیں ہوئی؟

نیٹ ورک بلاگ

دیکھا گیا