September 1, 2015

سرد جنگ، خلائی مخلوق اور چُھٹی حس


 جیسا کہ آپ خبروں میں پڑھ چکے ہوں گے اور اگر نہیں پڑھ چکے تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ ناسا کے ایک سابق خلا باز جن 
کا نام ایڈگر مچل Edgar Mitchell ہے جو اپالو 14 جہاز پر چاند پر گئے اور دنیا کے چھٹے شخص بنے جنہوں نے چاند پر قدم رنجہ فرمایا بلکہ رنجہ کم فرمایا رنجیدہ زیادہ فرمایا کہ جب کے وہاں سے ہو کر آئے اوٹ پٹانگ بیان داغتے رہتے ہیں جن میں سے تازہ ترین ارشاد یہ ہے کہ سرد جنگ میں خلائی مخلوق نے روس اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ نہیں ہونے دی۔ موصوف کا بیان پڑھ کر یک گونہ اطمینان ہوا کہ چولیں مارنا صرف ہمارا ہی قومی اثاثہ نہیں بلکہ اور قومیں بھی اپنا اپنا حصہ بخوبی ادا کر رہی ہیں-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 21, 2015

قصور


پس تحریر: قصور تو محض استعارہ ہے ہر ظلم کا۔۔۔۔

کیمرہ مین نے کہا "ایکشن"! اور فلم میں ریکارڈنگ شروع ہو گئی۔۔۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 11, 2015

لاہور چڑیا گھر میں حیران اور پریشان




میرے جانوروں اور پرندوں کے شوق سے تو ہر وہ بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے جو کبھی غلطی سے بھی میرے بلاگ کے
 پچاس میٹر نزدیک سے گزرا ہو۔ اتنا تو عاشق ناکامی کے بعد شعر کہنے اور آہیں بھرنے پر زور نہیں دیتے جتنا ہم نے بلا وجہ جانوروں پرندوں پر دے ڈالا ہے اور اتنا ڈالا ہے خطرہ ہے کہیں بیچارے ہمارے بوجھ سے دب کر مر ہی نہ جائیں۔ نجانے کونسا لمحہ تھا جب دل اس جانب کھچا گیا اور ایسا گیا کہ کسی نے وہاں ہی باندھ کر ڈال دیا۔ اب آئی بھگتانی تو ہے ہم نے بھی کیمرہ لٹکایا گلے سے اور نعرہ جد آدم بو لگاتے ہوئے جنگلوں کی راہ لی- اللہ پوچھے انگریزوں سے ایک تو جانور پرندے چڑیا گھر میں بند کر دیے اوپر سے لینز کی سیل لگا دی بس وہ وقت جو ہم اس سوچ میں گزارتے کہ کس جنگل جائیں؟ جنگل جائیں تو جانور دل پر نہ لے لیں، دل پر لے کر غصہ ہی نہ کر جائیں لہذا نہیں جاتے وہ وقت ہم چڑیا گھروں کی تلاش اور سیر میں گزارنے لگے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 1, 2015

ریسرچ پرپوزل (تحقیقی مقالے کا خاکہ) بگاڑنے کا آسان طریقہ


ماسٹرز کے دوران ہی دماغ پر پی ایچ ڈی PhD کا بھوت سوار ہو چکا تھا اور دل ہی دل میں خود کو ڈاکٹر کہلوانا شروع کردیا تھا اور زندگی کی واحد خواہش یہی رہ گئی تھی کہ جلد از جلد پی ایچ ڈی میں داخلہ ہو جائے تاکہ بقیہ زندگی امن و آتشی سے گزر سکے اور لوگ ڈاکٹر بلا سکیں- اصلی ڈاکٹر بننے کے قابل تو نہیں تھے کہ سوئی کی نوک دیکھ کر ہی ہوش جاتا رہتا ہے اور واحد طریقہ ڈاکٹر بننے کا یہی بچتا ہے کہ پی ایچ ڈی کر لیں- ویسے تو اس ڈاکٹر کے لیے بھی پی ایچ ڈی پاس کرنا ہوتی ہے لیکن ہم نے سوچا جیسے مزدور اینٹیں ڈھوتے ڈھوتے ایک دن راج مستری بن ہی جاتا ہے ویسے ہی داخلہ ہو ہی گیا تو ایک دن یونیورسٹی نے خود ہی تنگ آ کر کہنا ہے کہ یار اس کو تو ڈگری ایک نحوست سے تو جان چھوٹے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 21, 2015

کوکا پیپسی سیون اپ- لوازمات گپ شپ



ہم اس زمانے میں پیدا ہوئے جب کوکا کولا ، پیپسی و دیگر ہلکے مشروبات (سافٹ ڈرنکس) تعیشات میں شمار ہوتے تھے اور
خال خال مہمان کی ہی اس مشروب سے تواضح کی جاتی تھی لیکن اس زمانے میں پیدا ہونے کے باوجود میں کوکا کولا اور پیسپی کا آج کے بچوں کی طرح ہی شوقین تھا بلکہ میرے خیال میں اکثر بچے تب بھی اور اب بھی اس کے شوقین رہے ہیں - میری خواہش ہوتی تھی کہ اللہ کرے قابل تواضع پیپسی /کوک مہمان روز روز آئیں اس لیے نہیں کہ میں بچپن سے ہی مہمان نواز واقع ہوا ہوں یا مہمانوں کی بوتل کے ساتھ ہم بچوں کی بھی بوتل آتی تھی بلکہ اس لیے کہ اس زمانے میں اکثر لوگ بوتل میں ایک آخری گھونٹ چھوڑ دیا کرتے تھے جو کہ ہماری اشتہا کا پیٹ بھرنے کا کام دیا کرتی تھی اور مہمان اللہ کی رحمت کیوں ہیں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ لیکن اللہ کی رحمت کا دورانیہ جب طویل ہو جاتا تو ہمیں بے چینی ہوجاتی اور اندر جا کر بار بار مہمانوں کو میزبانی کی پیشکش کرتے ہوئے برتن اٹھانے کی پیشکش کرتے جس کا بنیادی مقصد شیشے کی وہ بوتل ہوتی جس میں ہماری زبان کے چٹخارے کی جان بسی تھی۔ لیکن یہ پیشکش صرف والدہ کے مہمانوں کے لیے ہوا کرتی تھی کہ والد صاحب کی تنبیہ محض گھورنے تک یا کھنگارنے تک محدود نہ ہوا کری تھی بلکہ وہ شرع میں کیسی شرم کے قائل تھے اور مہمانوں کے سامنے ہی ہمیں مہمان کی عظمت کا سبق پڑھا دیا کرتے تھے۔ اگر مہمان بھی ہم جیسے ہی ترسے ہوئے ثابت ہوتے جو ایک آخری قطرہ تک نچوڑ کر بوتل کی جان چھوڑا کرتے تھے اور نام اس کو فضول خرچی سے اجتناب کا دیا کرتے تھے تو ہم بھی اپنے لیمبوں نچوڑ اور اسحاق ڈاری طبعیت کو ضرورت ایجاد کی ماں کا نام دے کر خالی بوتل میں ٹھنڈا پانی بھر کر پی لیا کرتے تھے جس میں سے خوشبو کوک کی اور ذائقہ ایسا آتا جیسے کہ اس شخص کو آیا ہو گا جس نے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہتھیا لی ہو گی۔ تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ کوئی مہمان ہمارے چہرے پر برستی معصومیت اور پیاس جو کہ سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان کو بھی پیچھے چھوڑتی تھی پر رحم کھا کر ہمیں آدھی بوتل تھما دیا کرتا تھا اور جوتے جو وہی جو ہر حال میں پڑنے تھے تو کیوں نہ بوتل پی کر پڑتے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 11, 2015

یادوں کا گاؤں



پیش تحریر: سنجیدگی ، بے ربطگی اور طوالت کے لیے پیشگی معذرت

نو نمبر چونگی چوک ایک طرح کا ملتان شہر کا داخلی دروازہ ہے۔ اندرون شہر کے پانچ دروازے جو کبھی قدیمی دروازے ہوا کرتے تھے اب اندرون شہر سے بھی زیادہ سمٹ گئے ہیں اور اندرون شہر ان دروازوں سے باہر نکلا لگتا ہے۔ 9 نمبر چونگی نئے ملتان کا دروازہ ہے جیسے عزیز ہوٹل چوک ، چوک کمہاراں والا اور چوک بی سی جنہوں نے دولت گیٹ، دہلی گیٹ، پاک گیٹ، حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ اور لاہوری (لوہاری) گیٹ کی جگہ لے لی ہے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 1, 2015

مجسمے اور جملے- آخیر


مجسموں اور جملوں کی آخری قسط ملاحظہ کریں۔ اگر کوئی مجسمہ یا کوئی ملک  رہ گیا ہو تو بھول چوک لین دین ۔ ویسے اگر بھول چوک لین دین میں درست طور زیر زبر نہ لگائی جائے تو جملہ بذات خود ہی زیر و زبر ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کے کئی نئے در کھلتے ہیں اور اسی بنیاد پر میں جب بھی کہیں دیکھتا ہوں کہ فلاں زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے تو میں ان کی لاف زنی پر ہنس کر رہ جاتا ہوں کہ میرے خیال میں اردو بولنا اور درست لہجہ میں بولنا اور پڑھنا کوئی آسان کام نہیں بس جیسے مسلمان پیدا ہوگئے ہیں ویسے ہی پیدائشی اردو آ گئی ہے وگرنہ ہم بھی مانگٹا، وانگٹا کی گردان دوہرا رہے ہوتے اور اردو کی ایسی کی تیسی اب سے بھی زیادہ کر رہے ہوتے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 21, 2015

مجسمے اور جملے III


اللہ جانتا ہے بڑی کوشش کی ختم ہوں مجسمے اور چھوٹے جان آپ کی بھی اور میری بھی- اور پھر اسی دوران اور پوسٹیں بھی جمع ہوتی جا رہی ہیں لیکن کیا کروں کے تصاویر ہی اتنی مجسموں کی کھینچ رکھی ہے کہ شیطان کی آنت سے ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے۔ ابھی تو کسی نے کہا ہے پھولوں کی تصاویر بھی اپلوڈ کریں تو اگر وہ کر دیں تو اندازہ ہے کہ تین چار ماہ تو چلیں گے اور اس میں مزیداری یہ بھی ہوگی کہ بندہ کوئی تبصرہ کرنے یا کمنٹ دینے کے قابل بھی نہیں ہے تو ایک تصویری البم ہی بچے گا۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 11, 2015

مجسمے اور جملے -II



مجسمے اور جملے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اس سے پہلے آپ پہلی قسط میں دیکھ چکے ہیں مجسمے اور جملے۔ سلسلہ ابھی 
جاری ہے کہ نہ کم ملک گھومے ہیں، نہ کم تصاویر کھینچی ہیں اور نہ ہی دماغ کم بخت کم چلتا ہے۔ لہذا تیسری یا شاید چوتھی قسط کے لیے بھی تیار رہیں۔ اور ویسے بھی دنیا میں میٹرو بننے اور نہ بننے کے علاوہ اور بھی غم ہیں۔ 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 1, 2015

مجسمے اور جملے-1



پچھلے دنوں ایک بلاگر صاحب نے ہمارے بارے لکھتے ہوئے کہا کہ امید واثق ہے کہ بعد مرنے کے میرے کمپیوٹر سے حسینوں کی تصویریں اور خطوط بتاں کی بجائے کسی لدھر کی تصویر اور کسی لمڈھینگ کی وصیت نکلے گی۔ ہم نے کہا حضور اگر ایسا ہو جائے تو سمجھیں اب زندگی کا مقصد پورا ہو گیا ہے سچ ہے بے عزتی سے بچنے کا سب سے کارگر طریقہ یہ ہے کہ بے عزتی محسوس ہی نہ کرو۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad